تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 129 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 129

تاریخ احمدیت جلد ۴ 121 خلافت عثمانیہ کا پہلا سال چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ایسٹر کی تعطیلات کے سلسلہ میں انگلستان سے باہر گئے ہوئے تھے۔واپسی پر ہندوستان کی ڈاک اور الفضل کے پرچوں سے قیام خلافت کا علم ہوا تو آپ نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں فورا بیت کا خط لکھا کہ ” خلیفہ بنانا اللہ تعالٰی کی سنت ہے ولن تجد لسنة الله تبدیلا اور چونکہ حضور کو اللہ تعالٰی نے اس منصب کے لئے چن لیا ہے اس لئے ہمارا فرض امنا و صدقنا ہے حضور غلام کی بیعت قبول فرما دیں۔اور اللہ تعالی کے حضور دعا کریں۔کہ غلام اس عہد پر اخلاص کے ساتھ قائم رہے اور اسے پورا کرنے کی توفیق دے"۔قدرت خداوندی ملاحظہ ہو کہ خواجہ کمال الدین صاحب آپ کو ہم خیال بنانے کے لئے اکثر متنازعہ مسائل پر گفتگو کرتے رہتے تھے مگریہی گفتگو چوہدری صاحب کو دامن خلافت سے وابستہ کرنے کا موجب بن گئی۔چنانچہ چوہدری صاحب تحریر فرماتے ہیں۔”میرے انگلستان جانے کے ایک سال بعد خواجہ کمال الدین صاحب بھی انگلستان تشریف لے گئے اور مجھے متواتر خواجہ صاحب کی صحبت میسر آتی رہی۔۱۳ - ۱۹۱۲ء کی سردیوں کا کچھ عرصہ تو خواجہ صاحب اسی مکان میں مقیم رہے جس میں میری رہائش تھی۔اس دوران میں خواجہ صاحب بعض دفعہ خلافت کا تذکرہ بھی چھیڑ دیتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ خواجہ صاحب نے فرمایا۔۔۔۔۔خلافت کا بھی (حضرت) مولوی (صاحب) کے بعد تنازعہ ہی ہو گا۔آخر اس منصب کے اہل ہیں کون ؟ محمود ہے لیکن وہ بچہ ہے۔محمد علی ہے وہ بہت حساس ہے۔ذرا ذرا سی بات پر رو پڑتا ہے۔اور میں ہوں لیکن مجھ میں یہ نقص ہے کہ میں بچی بات منہ پر کہ دیتا ہوں جس سے لوگ مجھ سے خفا ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا۔ایک خلیفہ موجود ہے اس کے بعد جسے خدا چاہے گا۔کھڑا کر دے گا۔آپ اس فکر میں کیوں پڑتے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح نے لاہور والی تقریر میں وضاحت فرما دی کہ اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں اختلاف کا علم ہونے پر میں نے خواجہ صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔کہ اگر خلیفہ کی ضرورت نہیں تو آپ نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت کیوں کی تھی؟ انہوں نے کہا غلطی ہو گئی تھی۔میں نے کہا پہلی بار کی غلطی کے بعد پھر آپ نے دوبارہ غلطی کیوں کی ؟ خواجہ صاحب نے کچھ جھنجھلا کر کہا جھک ماری تھی۔بعد انہوں نے غلطی کو بیعت تو بہ " اور جھک " کو بیعت ارشاد سے تعبیر کیا۔خواجہ صاحب کے ساتھ۔۔۔جو گفتگو ان مسائل کے متعلق ہوتی رہی وہ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر میرے لئے جماعت کے اختلاف کے معاملہ میں بہت راہنمائی کا موجب ہوئی اور اختلاف کی تفصیل کا علم ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بیعت کی توفیق مل گئی۔فالحمد لله على ذلك "۔"