تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 131
123 خلافت عثمانیہ کا پہلا سال کو فتح عطا کی اور جماعت کا زائد از پچانوے فیصدی حصہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گیا۔یہ دن بڑے عجیب و غریب تھے جن کی یاد دیکھنے والوں کو کبھی بھول نہیں سکتی۔ہر مخلص احمدی جوش سے بھرا ہوا تھا اور ہر فرد اپنے علم اور اپنی استعداد کے مطابق تبلیغ کے کام میں دن رات مصروف تھا اور صحیح معنوں میں ایک پوری پوری جنگی کیفیت نظر آتی تھی۔اس عرصہ میں منکرین خلافت نے بھی اپنی جدوجہد کو انتہا تک پہنچا دیا اور اصول کی بحث کے علاوہ ذاتیات BI کے میدان میں بھی قدم رکھ کر ایسا نازیبا پراپیگنڈا کیا کہ جس نے جماعت کی اخلاقی فضا کو وقتی طور پر مکدر کر دیا۔مگر فرشتوں کی مخفی فوج کے سامنے سب کو ششیں بیکار تھیں اور آہستہ آہستہ حریف کا ہر مورچہ مغلوب ہو کر ہتھیار ڈالتا گیا اور سوائے ایک نہایت قلیل حصہ کے ساری جماعت دامن خلافت کے ساتھ وابستہ ہو گئی۔دو سری طرف منکرین خلافت کا جو حصہ قادیان میں تھا اور جس کے ہاتھ میں صدرانجمن احمدیہ کے بعض محکمہ جات کی باگ ڈور تھی اس پر اللہ تعالٰی نے ایسا رعب طاری کیا۔کہ وہ قادیان کو چھوڑ کر خود بخود لاہور چلا گیا اور اللہ تعالٰی نے مرکز سلسلہ کو فتنے کے شراروں سے بہت جلد پاک کر دیا۔ان لوگوں کا قادیان کو چھوڑنا گو جماعت کے لئے ایک بڑی رحمت ثابت ہوا۔مگر خود ان کے مفاد کے لحاظ سے ایک خطرناک غلطی تھی۔جسے انہوں نے خود بھی بعد میں محسوس کیا۔کیونکہ اول تو اس کے بعد ان کے لئے مرکز میں اڑا جمانے کا موقعہ نہ رہا۔دوسرے چونکہ دنیا کی نظروں میں قادیان ہی سلسلہ احمدیہ کا مرکز تھا اس لئے اپنوں اور بیگانوں کی نظر قادیان ہی کی طرف لگی رہی۔اور ان لوگوں کے متعلق : ہر سمجھنے والے نے یہی سمجھا کہ وہ جماعت کو چھوڑ کر الگ ہو گئے ہیں۔مگر بہر حال ان کا قادیان سے خود بخود نکل جانا ایک خدائی تصرف تھا جس نے جماعت کے حق میں ایک بھاری ہتھیار کا کام دیا۔اس اختلاف کے دوران میں صدر انجمن احمدیہ کا یہ حال تھا کہ گو اس کے ممبروں میں سے ایک معتد بہ حصہ خلافت کا منکر ہو چکا تھا مگر اب تک بھی ممبروں کی اکثریت خلافت کے حق میں تھی جیسا کہ نقشہ ذیل سے ظاہر ہو گا۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلافت کے حق میں حضرت نواب محمد علی خاں صاحب خلافت کے حق میں حضرت مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب خلافت کے حق میں یہ بزرگ شروع میں حضرت خلیفتہ ام امردی الثانی کی بیعت میں داخل ہوئے مگر بعد میں منکرین خلافت کے اثر سے بعض امور میں