تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 106 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 106

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 98 حواشی حواشی ا الفضل یکم نومبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۴ کالم ۳۔۴۔اس وقت جبکہ حضور لیے عرصہ سے بہار ہیں یہ دعوئی ایک حقیقت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔چنانچہ طویل بیماری کے باوجود دنیا بھر میں آپ کے لئے دعاؤں اور صدقات کا ایک وسیع سلسلہ جاری ہے جو ایک فقید المثال چیز ہے اور اس کا کوئی نمونہ موجودہ دنیا کی بڑی سے بڑی حکومتوں کے سربراہوں اور وزیروں یا دوسرے سیاسی و مذہبی لیڈروں کی زندگی میں نہیں پایا جاتا۔الفضل ۱۲۵ جون ۱۹۳۶ء صفحہ ۴ کالم ۲- خلافت را شده صفحه ۲۶۶ تقریر جلسه سالانه ۱۲۹٬۲۸ دسمبر ۱۹۳۹ء ( از حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی طبع اول شائع کرده اوال الشركة الاسلامیہ لمیٹڈ۔ربوہ تقریر فرموده ۲۸/ دسمبر ۱۹۴۵ء مطبوعه الفضل ۲۲/ جنوری ۱۹۶۰ء صفحہ ۱۰ کالم ۴۔۵ مشکوة کتاب الفتن باب نزول عیسی علیہ السلام الفصل الثالث) - اشتہار ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء مشموله آئینه کمالات اسلام در آخر کتاب اشتہار ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء بحوالہ تذکره صفحه ۱۴۸ طبع دوم - سبز اشتهار صفحہ کے احاشیه (مورخہ یکم دسمبر ۶۱۸۸۸) - سبز اشتهار صفحه ۲۱ حاشیه (مورخہ یکم دسمبر ۶۱۸۸۸) - سبز اشتہار صفحہ کے حاشیہ (مورخہ یکم دسمبر ۱۸۸۸ء) سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۵۰ ملاحظہ ہو ضمیمہ اصحاب احمد جلد اول صفحه ۵۰۴ از جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم اے) ۱۳ لملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد چهارم صفحه ۵۱- ناشر الشركته الاسلامیہ ربوہ مطبوعہ جولائی ۱۹۶۲ء۔۱۴ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۳ صفحه ۹۲-۱۹۳ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر پنجم صفحه ۱۶۳) مرتبہ حضرت عرفانی کبیر ایڈیٹر و مؤسس الحمام ۱۵ بعض نا واقف اعتراض کیا کرتے ہیں کہ کسی شخص کے لئے " تحرر بل " کا لفظ استعمال کرنا جائز نہیں۔مگر یہ خیال صحیح نہیں ہے چنانچہ حضرت مولانا روم حضرت علی کی شان میں فرماتے ہیں ارنیو انداخت روئے علی پر افتخار ہرنی و ہر ولی (مثنوی دفتر اول) خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ابو بکر کو فخر الاسلام والمرسلین " کے لقب سے یاد فرمایا ہے۔ملاحظہ ہو سر الخلافہ صفحہ ۳۱ مطبوعہ محرم ۱۳۱۲ء طبع اول ریاض ہند پریس۔امرتسر اشتہار تحمیل تبلیغ مشموله تبلیغ رسالت حصہ اول صفحه ۱۴۷ تا ۱۴۹ حاشیه ۱۷ مئی ۱۸۸۹ء میں جبکہ سید نا محمود عالم وجود میں آچکے تھے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کو خواب میں حضرت عمر فاروق ان کی زیارت ہوئی۔جس کی ایک تعبیر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے نزدیک یہ تھی کہ " اس میں حضرت منشی صاحب کو قبل از وقت بشارت دی گئی تھی کہ وہ اس عصر سعادت کے فاروق فضل عمر کو دیکھ لیں گے"۔(مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر۵ صفحہ ۶۲۔۱۳) حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کو تو پیشگوئی ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء سے بھی قبل خوشخبری مل چکی تھی چنانچہ مولوی صاحب خود فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو آفتاب جن کے درمیان کچھ تھوڑا سا فاصلہ تھا۔مغرب کی طرف سے پڑھے اور نصف النہار تک پہنچے ہیں۔سو جب حضور نے اس خواب کی تعبیر کی تو اس میں اکابر دین جن سے فائدہ دین کو پہنچے "