تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 105
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 97 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت کم لوگوں نے بیعت کی۔اگر پیسہ اخبار کا ایڈیٹر بیعت کے وقت قادیان میں ہو تا تو وہ قدرت الہی کا نمونہ دیکھتا کہ بیعت کے لئے لوگ کس طرح انڈے چلے جاتے تھے۔بیعت کے لئے اس وقت لوگوں کی عقیدت اور جوش کی روانی اس قدر تیزی پر تھی کہ شاید دریا کی موجوں اور سمندروں کی ٹھاٹھوں میں بھی وہ زور نہ ہو گا۔نصرت الہی اور تائید ربی کا اس وقت عجیب نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا تھا اور بیساختہ منہ سے یہ نکل جاتا تھا۔ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء۔آخر جماعت کے ایک کثیر حصہ نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے دست مبارک پر بیعت کرلی "1