تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 107
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 99 حواشی کے الفاظ سے میں اسی وقت یہ بات سمجھا کہ ایک آفتاب تو خود حضور ہیں اور دو سرے آفتاب کے لئے منتظر تھا جب حضور نے ہوشیار پور سے پسر موعود کا اشتہار دیا تو اس وقت مجھے کو بہت خوشی ہوئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ دو سرا آفتاب یہی ہے اور اس کو میں بخوبی دیکھوں گا۔سوالحمد للہ کہ میں نے یہ دوسرا آفتاب بھی دیکھ لیا جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام ہیں"۔(مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر پنجم صفحه ۱۵۰ حاشیه) ۱۸ مکتوبات احمد یہ جلد ۵ صفحه ۱۶۳ روایات صحابه غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر ۸ صفحه ۲۰۴ الفضل ۶/ اگست ۱۹۵۲ء صفحه ۳ کالم - الفضل ۱۹ / فروری ۱۹۵۶ء صفحہ سے کالم ۱-۲- ۲۲ سیرت المہدی حصہ اول طبع ثانی صفحہ ۱۸ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کے اہل بیت بھی ساتھ تھے پس لا محالہ سید نا محمود کا بھی ہونا ضروری ہے۔۲۳ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر سوم صفحه ۹۹- ۲۴- تذكرة المهدی حصہ اول (مولفه حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی) صفحہ 190 سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ان دنوں مع اہل و عیال مقیم تھے۔19° ۲۵- حضور اس سفر کے بارے میں جو صرف دو اڑھائی برس کی عمر میں تھا اپنی یادداشت کے مطابق لکھتے ہیں۔" مجھے یاد ہے بچپن میں کچھ عرصہ میں بھی یہاں لدھیانہ میں۔ناقل ) رہا ہوں۔میں اس وقت اتنا چھوٹا تھا کہ مجھے کوئی خاص باتیں تو اس زمانہ کی یاد نہیں ہیں کیونکہ اس وقت میری عمر دو اڑھائی سال کی تھی۔صرف ایک واقعہ یاد ہے اور وہ یہ کہ ہم جس مکان میں رہتے تھے وہ سڑک کے کر پر تھا اور سیدھی سڑک تھی میں اپنے مکان سے باہر آیا۔تو ایک چھوٹا سائز کا دوسری طرف سے آرہا تھا۔اس نے میرے پاس آکر ایک مری ہوئی چھپکلی مجھ پر پھینکی میں اس قدر دہشت زدہ ہوا کہ روتا ہوا گھر کی طرف بھاگا "۔(الفضل ۱۸ / فروری ۱۹۵۹ء صفحہ ۴-۵) یا در ہے حضرت اقدس ان دنوں شہزادہ حیدر کے مکان واقعہ اقبال گنج لدھیانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔سیرت مسیح موعود صفحه ۱۳۶۰۳۵ از حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوئی مصنفہ ۱۹۰۰ء) ۲۷ تاریخ احمدیت جلد دوم طبع دوم صفحه ۲۳۲ -۲۶ ۲۸ سیرت ام المومنین حصہ اول صفحه ۱۳۱۵ از شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مرحوم) ۲۹ نور احمد " صفحه ۲۹ ۳۰- حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی روایت ہے کہ۔۱۸۹۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام چند روز کے لئے ہمارے ہاں بمعہ اہل و عیال فیروز پور چھاؤنی تشریف لائے ایک دن وہاں ایک شیخ صاحب کی کوٹھی پر گئے جو انگریزی اشیاء کے تاجر تھے۔شیخ محمد جان صاحب وزیر آبادی حضور کو یہ دکان دکھانے لے گئے۔وہاں مالک وکان نے ایک کھلونا کھایا۔جس میں ایک ہلی ایک چو ہاتھا۔اسے دیکھ کر کچھ دیر تو مسیح ناصری کے پرندوں کا ذکر ہو تا رہا۔پھر آپ چلے آئے۔حضرت خلیفہ البیع الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی جن کی عمر اس وقت چار سال کے قریب تھی ہمراہ تھے اور کسی دوست یا ملازم کی گود میں تھے۔جب کچھ راستہ چلے آئے۔تو میاں صاحب نے رونا شروع کر دیا۔بہت پوچھا مگر کچھ نہ بتایا آخر میاں صاحب روتے روتے بیچ کر کہنے لگے۔کہ میں نے بلی چو پالیتا ہے۔اس پر حضرت صاحب سب جماعت کے ہمراہ واپس آئے شیخ محمد جان اندر جا کر وہ کھلونا لے آئے۔حضرت صاحب نے کہا اس کی قیمت کیا ہے مگر شیخ محمد جان صاحب نے کہا کہ اس کو ٹھی کے مالک ہمارے دوست اور ملنے والے ہیں اور یہ ایک حقیر چیز ہے وہ حضور سے ہرگز قیمت نہیں لیں گے۔اس پر آپ نے وہ کھلونا میاں صاحب کو دے دیا اور سب لوگ گھر واپس آئے"۔شخص از سیرت المهدی حصہ سوم صفحہ ۲۷۸ طبع اول اپریل ۱۹۳۹ء (از قمرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ) الفضل ۱۲ جون ۱۹۳۱ء صفحہ ۶ کالم ۳۴۱ - الفضل ۱۳/ نومبر ۱۹۴۰ء صفحه ۳ کالم -