تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 84
تاریخ احمدیت جلد ۴ تشھید الاذہان میں بلند پایہ مضمون 76 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت (۱) خواجہ غلام الثقلین ب نے "عصر جدید" کے ایک مضمون میں سلسلہ پر حملہ کیا جس کا آپ نے پر زور دفاع کیا۔(۲) ایک مسلمان نے اخبار "پایونیر" میں جو از سود پر مضمون لکھا جس کا جواب ) آپ نے شمیذ الاذہان میں شائع فرمایا ) - (۳) پادری اکبر مسیح نے رسالہ ”پیغام صلح " پر اعتراضات کئے جس کا جواب بھی آپ کے قلم سے نکلا - جیسا کہ گزشتہ جلد میں با تفصیل بتایا جا چکا ہے انجمن کے حامی آپ کے خلاف منصوبے سلسلہ احمدیہ میں چونکہ نظام خلافت کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے پر ย تلے ہوئے تھے اس لئے ان کی مخالفت کا اول نشانہ حضرت مولانا حافظ نور الدین خلیفتہ المسیح اول - ثانيا حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تھے۔حضرت خلیفہ اول کے خلاف محاذ کی وجہ ظاہر تھی کہ اس وقت آپ ہی مسند خلافت پر متمکن تھے اور حضرت میاں صاحب سے عداوت و دشمنی کا باعث یہ تھا کہ قیام خلافت کے آغاز ہی سے آپ حضرت خلیفہ اول کے دست و بازو اور زبر دست موید تھے اور آئندہ خلافت کے لئے جماعت کی نظریں ان پر پڑتی تھیں۔بلکہ خود حضرت خلیفتہ المسیح اول پوری جماعت میں باوجود نو عمری کے آپ کا سب سے زیادہ احترام فرماتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کی طرف سے جوں جوں یہ اعزاز و اکرام بڑھتا گیا۔منکرین خلافت زیادہ سے زیادہ مشتعل ہوتے چلے گئے اور آپ کا وجود خار کی طرح کھٹکنے لگا اور آپ کی ہر ممکن صورت سے تحقیر کی جاتی۔چنانچہ صاحبزادہ حضرت مرزا محمود احمد صاحب فرماتے ہیں۔”حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب وفات پاگئے تو صد را مجمن احمدیہ نے میرے سپرد لنگر خانہ کا کام کر دیا۔خواجہ کمال الدین صاحب عام طور پر میرے کاموں کو پسند نہیں کیا کرتے تھے۔لیکن اگر میں کام نہ کرتا۔تو حضرت خلیفہ اول سے یہ شکایت کر دیتے کہ میاں ہماری مدد نہیں کرتے۔بہر حال جب یہ کام میرے سپرد ہوا۔تو خواجہ صاحب نے حقارت کے طور پر میرے متعلق لانگری کا لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا۔چنانچہ جب بھی میں ان سے ملتا۔کہتے آگئے لانگری صاحب وہ سمجھتے کہ اس طرح میری خوب ہتک ہوتی ہے۔مگر میں پروا بھی نہ کرتا۔آخر چند دن کے بعد وہ خود ہی تھک گئے اور انہوں نے اس لفظ کا استعمال ترک کر دیا م یہی نہیں ایک بار مدرسہ احمدیہ کی ایک میٹنگ میں خواجہ کمال الدین صاحب نے برملا کہہ دیا کہ آپ کو میاں میاں کہہ کر سر پر چڑھا لیا ہے۔ہم آپ کو میاں کہہ کر پکارنا چھوڑ دیں گے پھر دیکھیں گے کون آپ کی عزت کرتا ہے۔ان حضرات کی عادت تھی کہ اگر حضرت میاں صاحب سلسلہ کا کوئی کام