تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 83
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 75 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے موائع قبل از خلافت روح دوسرے پر اترتی ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روح آپ پر اُتر رہی تھی اور اس بات کا اعلان کر رہی تھی کہ یہ ہے میرا پیارا بیٹا جو مجھے بطور رحمت کے نشان کے دیا گیا تھا اور جس کی نسبت یہ کہا گیا تھا کہ وہ حسن اور احسان میں تیرا نظیر ہو گا۔دوسری بات جو اس تقریر کے متعلق قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ جب تقریر ختم ہو چکی تو حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے جن کی ساری عمر قرآن شریف پر تدبر کرنے میں صرف ہوئی تھی اور قرآن کریم جن کی روح کی غذا تھی فرمایا کہ میاں نے بہت سی آیات کی ایسی تفسیر کی ہے جو میرے لئے بھی نئی تھی۔یہ آپ کی پہلی پبلک تقریر تھی۔جو آپ نے جماعت کے سامنے کی اور اس پہلی تقریر میں قرآن شریف کے وہ معارف بیان فرمائے ہیں جن کی نسبت حضرت خلیفتہ المسیح اول جیسے عالم قرآن نے یہ اقرار فرمایا ہے کہ یہ ان کے لئے بھی جدید معارف ہیں۔پس یہ معارف اس نوجوان کو کس نے سکھائے یہ حکمت اور یہ علم آپ کو زمانہ نو جوانی میں کس نے دیا اس نے جو قرآن شریف میں حضرت یوسف علیہ السلام کی نسبت فرماتا ہے۔فلما بلغ اشده اتينه حکما و علما و كذلك نجزی المحسنین۔آپ نے صرف عام طور پر دانائی اور حکمت کی باتیں بیان نہ فرما ئیں بلکہ قرآن شریف کے اچھوتے معارف بیان فرمائے اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف کے متعلق فرماتا ہے- لا يمسه الا المطهرون۔پس لڑکپن کی خلوت سے نکلتے ہی آپ کا لوگوں کے سامنے قرآن شریف کے جدید اور لطیف معارف بیان فرمانا اس بات کی ایک بین شہادت ہے کہ آپ نے اپنا لٹر کمین اللہ تعالیٰ کی خاص تربیت میں گزارا اور آپ بچپن میں ہی مطہرین کی جماعت میں داخل تھے "۔۲۲۵ ۱۹۰۸ء کے جلسہ پر ایک کانفرنس مدرسہ احمدیہ کی بقاء کے لئے فیصلہ کن جدوجہد بھی ہوئی جس میں انجمن کے بعض ارباب حل و عقد نے مدرسہ احمدیہ کو ختم کر دینے کا فیصلہ کیا۔مگر آپ نے ایسی زبردست تقریر فرمائی کہ ان کا سحر پاش پاش ہو گیا۔اگر آپ اس مقابلے میں سینہ سپر نہ ہوتے تو سلسلہ احمدیہ کی آئندہ تاریخ بالکل مختلف ہوتی۔(1) آپ کی کوشش سے قادیان میں پہلی پبلک لائبریری قائم ۱۹۰۸ء کی دوسری خدمات ہوئی۔جس کا ۲۵ دسمبر ۱۹۰۸ء کو افتتاح ہوا۔(۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی وفات پر اخبارات کی آراء آپ نے " شعیذ الا زبان میں محفوظ کر دیں۔(۳) حضور کی وفات کے بعد لنگر خانہ کا انتظام آپ کے سپرد ہوا۔