تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 85
تاریخ احمدیت جلد ۴ 77 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلافت کرتے تو پراپیگنڈا کرتے کہ اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے اور اگر علیحدگی اختیار کرتے تو فرماتے کہ انہیں تو سلسلہ کا کوئی درد ہی نہیں ہے۔ایک بہت بڑا خطرہ انہیں اس وقت محسوس ہو ا جب بعض بیرونی جماعتوں کی درخواستوں پر سیدنا حضرت خلیفہ اول نے آپ کو باہر بھیجنا شروع فرمایا۔یہ حضرات سخت پریشان ہوئے اور انہوں نے اس کا اثر زائل کرنے کے لئے ایک طرف تو یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ یہ سب کچھ اپنی خلافت کی راہ ہموار کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ حضور کو معلوم ہے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود جب کبھی باہر تشریف لے جاتے تو کس قدر مخلوق آپ کی خدمت میں ہوتی اور ایک شان نظر آتی تھی۔اور اب ان کے صاحبزادے ہیں اور ہم ان کو بھی اس نظر سے دیکھتے ہیں اور حضور معمولی لوگوں کی درخواست پر بھی اکیلا باہر بھیج دیتے ہیں۔جو بالکل ان کے خلاف شان ہو تا ہے۔اور اس سے طبیعت پر بہت صدمہ ہوتا ہے اور اس پر بس نہ کرتے ہوئے حضرت ام المومنین تک یہ بات پہنچائی گئی۔کہ ہم کچھ کہہ نہیں سکتے۔مولوی صاحب بے پروا ہیں۔ساری دنیا دشمنوں سے بھری پڑی ہے جو بڑے سے بڑے ارادے رکھتے ہیں اور مولوی صاحب میاں صاحب کو اکیلا باہر بھیج دیتے ہیں جب تک واپس نہ آجا ئیں ہمیں آرام نہیں آتا۔مگر جب اس میں بھی کامیابی نہ ہوئی تو آپ کے مقابلہ کے لئے خود لیکچروں کے دورے شروع کئے اور ہر جگہ حضرت میاں صاحب کی نسبت طرح طرح کے خیالات پھیلانے لگے۔جب اس پر بھی کام نہ چلا تو خواجہ کمال الدین صاحب نے شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو آپ کی خدمت میں بھیجا کہ صلح کرلی جائے۔آپ نے انہیں جواب دیا کہ صلح بہت اچھی چیز ہے اور اگر جھگڑا مٹ جائے تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔اگر کسی دنیوی امر کے بارہ میں ہے تو خواجہ صاحب جو کچھ بھی لکھ دیں گے میں اس پر دستخط کر دوں گا اور مان لوں گا۔مگر اختلاف مذہبی عقائد کا ہے تو چاہے زمین و آسمان ٹل جائیں۔میں جب تک ایک عقیدہ کو درست سمجھتا ہوں اسے ہرگز چھوڑنے کو تیار نہ ہوں گا۔آپ کی نگرانی انجمن کے ممالک حضرت میاں صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی پرائیوٹ عمائد مجالس پر کڑی نگرانی رکھتے اور مختلف ذرائع سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے کہ وہاں کیا کچھ کیا اور کہا جاتا ہے چنانچہ میر شفیع احمد صاحب دہلوی کا بیان ہے کہ " حضرت میاں محمود احمد صاحب مغرب کے بعد اکمل صاحب کی کوٹھڑی میں آکر بیٹھا کرتے تھے۔۔۔۔۔شعر و شاعری اور مختلف باتیں ہوتی تھیں۔مگر میں نے کبھی کوئی ایسی ویسی بات نہ دیکھی بلکہ ان کی ہر بات حیرت انگیز اخلاق والی ہوتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جب پیغام پارٹی خصوصا شیخ رحمت اللہ