تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 74
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ سفر شمله 66 سیدنا سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت وسط ۱۹۰۷ ء میں آپ تبدیل آب و ہوا کی غرض سے شملہ تشریف لے گئے۔۱۱۹۸ حضرت مسیح موعود کی زندگی کا آخری سالانہ جلسہ حضرت صاجزادہ مرزا محمود احمد فرماتے ہیں۔" مجھے حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کی زندگی کا آخری جلسہ یاد ہے۔میں سیر میں ساتھ تو نہیں تھا مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر سے واپس گھر آئے تو فرمایا۔اب تو جلسہ پر اتنے آدمی آتے ہیں کہ آئندہ جلسہ پر سیر کے لئے جانا بالکل مشکل ہو جائے گا۔آج ہم تھوڑی دور گئے مگر اس قدر گرد و غبار اٹھا کہ آگے جانا مشکل ہو گیا۔اس مسجد کے صحن میں جو قبر ہے اس سے درے مسجد کے فرش کی منڈیر تھی اس وقت مسجد کا صحن موجودہ صحن سے بہت چھوٹا تھا۔مسجد کے درمیانے در میں کرسی پر بیٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقریر فرمائی تھی۔ہم منڈیر پر بیٹھے تھے اور اس وقت کی مسجد بالکل پر تھی اور تمام احباب اس ذوق شوق سے لبریز تھے کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے ماتحت جماعت اب بہت پھیل گئی ہے " نہ کا سورۃ فاتحہ سکھانا آپ کی عمر سترہ اٹھارہ سال کی تھی اور حضرت خلیفہ اول مولانا حاجی نور الدین صاحب کے زیر تعلیم تھے کہ خواب میں آپ پر ایک فرشتہ ظاہر ہوا۔جس نے آپ کو سورۃ فاتحہ کی تغییر سکھائی اس طرح آپ پر علوم قرآنی کے انکشافات کا دروازہ کھولا گیا۔اس لطیف خواب کی تفصیلات خود حضور کے قلم سے یہ ہیں۔فرشتہ میں ابھی چھوٹا سا تھا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ جیسے کوئی کٹورہ ہوتا ہے۔اس میں سے ٹن کی آواز آئی پھر وہ آواز پھیلنی شروع ہوئی پھر جسم ہوئی پھر وہ ایک فریم بن گئی۔پھر اس میں ایک تصویر پنی۔پھر وہ تصویر متحرک ہو گئی اور اس میں سے ایک وجود نکل کر میرے سامنے آیا اور اس نے کہا۔میں خدا تعالی کا فرشتہ ہوں اور میں آپ کو سورۃ فاتحہ کی تغییر سکھانے کے لئے آیا ہوں۔میں نے کہا سکھاؤ۔اس نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر مجھے سکھانی شروع کی۔جب وہ ایاک نعبد و ایاک نستعین پر پہنچا تو کہنے لگا آج تک جتنی تفسیریں لکھی ہیں وہ اس آیت سے آگے نہیں بڑھیں کیا میں آپ کو آگے بھی سکھاؤں میں نے کہا ہاں۔چنانچہ اس نے مجھے اگلی آیات کی بھی تغییر سکھادی۔” جب میری آنکھ کھلی تو اس وقت فرشتہ کی سکھائی ہوئی باتوں میں سے کچھ باتیں مجھے یاد تھیں مگر میں نے ان کو نوٹ نہ کیا۔دوسرے دن حضرت خلیفہ اول سے میں نے اس رویا کا ذکر کیا۔اور یہ بھی کہا کہ مجھے کچھ باتیں یاد تھیں مگر میں نے ان کو نوٹ نہ کیا اور اب وہ میرے ذہن سے اتر گئی ہیں۔حضرت خلیفہ اول نے پیار سے فرمانے لگے کہ آپ ہی تمام علم لے لیا کچھ یاد رکھتے تو ہمیں بھی