تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 73
تاریخ احمدیت جلد ۴ 65 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے موانع حمل از خلافت الاذہان میں بڑی صراحت سے ان کا ذکر فرمایا۔"حقیقتہ الوحی" میں ذکر حقیقت الوحی " حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری زمانہ کی سب سے مبسوط اور مفصل کتاب ہے حضور علیہ السلام نے اس کتاب میں خدائی نشانوں کا خصوصیت سے تذکرہ فرماتے ہوئے آپ کی پیدائش کے نشان کا ذکر دو مقام پر فرمایا۔(1) " چونتیسواں نشان یہ ہے کہ میرا ایک لڑکا فوت ہو گیا تھا اور مخالفوں نے جیسا کہ ان کی عادت ہے اس لڑکے کے مرنے پر بڑی خوشی ظاہر کی تھی۔تب خدا نے مجھے بشارت دے کر فرمایا کہ اس کے عوض میں جلد ایک اور لڑکا پیدا ہو گا جس کا نام محمود ہو گا۔اور اس کا نام ایک دیوار پر لکھا ہوا مجھے دکھایا گیا۔تب میں نے ایک سبز رنگ اشتہار میں ہزار ہا موافقوں اور مخالفوں میں یہ پیشگوئی شائع کی۔اور ابھی ستر دن پہلے لڑکے کی موت پر نہیں گزرے تھے کہ یہ لڑکا پیدا ہو گیا اور اس کا نام محمود احمد رکھا گیا " (۲) ” جب میرا پہلا لڑکا فوت ہو گیا تو نادان مولویوں اور ان کے دوستوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں نے اس کے مرنے پر بہت خوشی ظاہر کی۔اور بار بار ان کو کہا گیا کہ ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ ء میں یہ بھی ایک پیشگوئی ہے کہ بعض لڑکے فوت بھی ہوں گے۔پس ضرور تھا کہ کوئی لڑکا خوردسالی میں فوت ہو جاتا تب بھی وہ لوگ اعتراض سے باز نہ آئے تب خدا تعالٰی نے ایک دو سرے لڑکے کی مجھے بشارت دی۔چنانچہ میرے سبز اشتہار کے ساتویں صفحہ میں اس دوسرے لڑکے کے پیدا ہونے کے بارے میں یہ بشارت ہے۔دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے وہ اگر چہ اب تک جو یکم ستمبر ۱۸۸۸ ء ہے پیدا نہیں ہوا۔مگر خدا تعالٰی کے وعدہ کے موافق اپنی معیاد کے اندر ضرور پیدا ہو گا۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں۔پر اس کے وعدوں کا ملنا ممکن نہیں یہ ہے عبارت اشتہار سبز کے صفحہ سات کی جس کے مطابق جنوری ۱۸۸۹ء میں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام محمود رکھا گیا اور اب تک بفضلہ تعالیٰ زندہ موجود ہے اور ستر ہویں سال میں ہے؟ 140۔جلسہ قیام امن کی صدارت ۱۲/ مئی ۱۹۰۷ء کو ۵ بجے شام قادیان میں حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے ارشاد سے صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے قیام امن کے لئے ایک اہم جلسہ منعقد ہوا۔جس کی صدارت آپ نے فرمائی اس تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہدایت کے مطابق آپ نے بدر کے لئے ایک مفصل مضمون بھی لکھا۔١٩