تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 124 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 124

تاریخ احمد بیت ، جلد ۴ 116 اللہ تعالٰی نے مجھے بتایا ہے کہ اب تم آگے ہی آگے چل سکتے ہو پیچھے نہیں ہٹ سکتے " خلافت ثانیہ کا پہلا سال اللہ تعالی کی آسمانی خلافت ثانیہ کی تائید میں رویا والہامات کا وسیع سلسلہ بادشاہت میں یہ دستور نظر آتا ہے کہ جب انبیاء و خلفاء کی وفات قریب ہوتی ہے تو فرشتوں کی آسمانی فوجیں دلوں پر نازل ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور لوگوں کو نئے ہادی و راہبر کی بشارتیں دیتی اور اس سے تعلق پیدا کرنے کی تحریک کرتی ہیں اور ایسا ہی خلافت سیدنا محمود ایدہ اللہ الودود کے وقت بھی ہوا کہ جماعت کے ہر طبقہ میں رویا و الہامات کا سلسلہ جاری ہو گیا اور وسط اپریل ۱۹۱۴ء تک تین سو کے قریب خوابیں اور کشوف جمع ہو گئے تھے۔خلافت ثانیہ کی تائید میں اکثر آسمانی شہادتیں انہی دنوں الفضل میں شائع کر دی گئی تھیں جو کئی سعید روحوں کی ہدایت کا موجب بنیں۔احمدیوں کے علاوہ غیر احمد یوں بلکہ بعض غیر مذاہب والوں نے بھی خواب میں حضور کا خلیفہ ہو جانا دیکھا تھا۔A جن احمدیوں پر یہ انکشاف ہوا ان میں سے بعض یہ ہیں۔حضرت مولوی عبد الستار صاحب (عرف بزرگ صاحب) ساکن خوست (شاگرد خاص حضرت مولانا سید عبد اللطیف صاحب شہید جو اپنے زہدو ورع کی وجہ سے مشہور و معروف تھے اور جن کو حضرت مسیح موعود بھی مہمات امور میں دعا کے لئے تحریر فرمایا کرتے تھے ) سید عبدالمی عرب۔حضرت مولانا قاضی امیر حسین صاحب - حضرت میاں محمد شریف صاحب پلیڈر پنجاب لاہور - حضرت حافظ نور محمد صاحب فیض اللہ چک - حضرت قاضی حبیب اللہ صاحب لاہور - حضرت سید ناصر شاہ صاحب سب ڈویژنل آفیسر محکمہ پبلک ورکس جموں - محمد حسین صاحب طبیب بھیرہ (حضرت خلیفہ اول کے رشتہ داروں میں سے ایک بزرگ تھے ) - پروفیسر عطاء الرحمن صاحب ایم۔اے راجشاہی کالج بنگال - حافظ محمد حسین صاحب قریشی مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری - حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور (والد حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی فضل الرحمن صاحب قادیان - شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور قادیان - حضرت شیخ محمد اسمعیل صاحب سرساوی قادیان - میاں محمد مراد صاحب پنڈی بھٹیاں منشی عبدالحی صاحب سنوری - ملک کے باہر بھی بعض اصحاب کو خلافت ثانیہ کی بابت خبر دی گئی۔مثلاً حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو انگلستان میں 22 - جناب قاری غلام مجتبی صاحب کو ہانگ کانگ (چین میں) - بعض حضرات خواہیں دیکھنے کے باوجود ٹھو کر کھا گئے۔مثلاً ڈاکٹر بشارت احمد صاحب۔منشی عمرالدین شملوی۔اور اسد اللہ شاہ صاحب - مؤخر الذکر بزرگ کو تو صاف لفظوں میں بتایا گیا کہ صاحب