تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 125
تاریخ احمدیت جلد ۴ 117 خلافت عثمانیہ کا پہلا سال دوسرے خلیفہ "بشیر الدین محمود " ہوں گے۔بالآخر یہ بتانا ضروری ہے کہ اس کے بالمقابل کسی شخص کو خواب میں یا بذریعہ الہام ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ اصل جانشین اور خلیفہ انجمن ہے !! بیرونی جماعتوں میں سب سے بیرونی جماعتوں کی بیعت کے بعض خاص واقعات پہلے شاہ جہانپور کی جماعت نے بیعت کی اور اس وقت کی جبکہ ابھی حضرت خلیفہ اول کی وفات کی کوئی اطلاع وہاں نہیں پہنچی تھی۔یہ امر خالصتہ اللی تصرف کے تحت ہو ا جس کی تفصیل حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاه جهانپوری مد ظله کے الفاظ میں یہ ہے۔چو "سید ناد استاذنا حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح اول کی طبیعت ناساز تو پہلے سے چلی آتی تھی مگر آخر فروری ۱۹۱۴ء میں جو ناسازی بڑھی تو بڑھتی ہی چلی گئی۔اور حضور کی حالت سے متعلق قادیان سے آنے والی ہر خبر پہلے سے آئی ہوئی خبر سے زیادہ حسرت خیز و درد انگیز آنے لگی۔یونکہ حضور کی طرف سے بذریعہ اعلان یہ خبر شاہ جہان پور پہنچ گئی تھی کہ عیادت کی غرض سے قادیان آنے کا ارادہ رکھنے والے اپنے اپنے مقام پر ہی دعائیں کرتے رہیں تو زیادہ مناسب ہو گا اس لئے جس طرح اپنے مقام پر دعا جاری تھی۔اسی طرح جاری رکھی گئی۔فردا فردا بھی۔اور اوقات نماز کے بعد مجموعی طور پر بھی۔جب نظر و الله غالب علی امرہ کی طرف جاتی تو امید میں بڑی وسعت پیدا ہو جاتی اور جب قادیان سے آئی ہوئی خبروں کی طرف آتی تو بڑی کوفت اٹھاتی۔اسی کشاکش خیالات اور کشمکش امیدو ہیم کی حالت میں وقت گزرتا گیا۔حتی کہ مارچ کی بارہ تاریخ اور جمعرات کا دن آگیا۔یہ دن میری پریشانی کو بہت بڑھا دینے والا تھا کیونکہ قادیان کے جو خطوط دو پہر سے پہلے پہنچے تھے وہ بھی تشویش انگیز تھے اور جو دوپہر کے بعد پہنچے وہ بھی۔اب میری گھبراہٹ اور بے چینی اتنی بڑھ گئی کہ ایک گھنٹہ بھی کسی جگہ گزارنا مشکل ہو گیا۔کبھی پائیں باغ میں چلا جاتا۔کبھی مسجد میں اور کبھی پھر مکان میں آجاتا۔رات بھی مکان اور مسجد میں جاتے آتے گزری دعا ہر جگہ جاری رہی لیکن تسکین کہیں بھی حاصل نہ ہو سکی۔نماز فجر میں اور اس کے بعد بھی دعاء صحت کی گئی۔یہ جمعہ کا دن تھا جب احباب رخصت ہو گئے تو میں نے مکان میں آکر ڈاک خانہ سے خطوط منگوائے۔آج کے خطوط میں بھی کوئی بات تسلی بخش نہ تھی بلکہ کل کے خطوط سے زیادہ دل شکن مگر نہ ایسی جس سے یہ ظاہر ہو سکے کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات میں اب چند ہی گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔خطوط میں تو دو روز پہلے کا حال تھا اور حالت دم بدم نازک ہوتی جارہی تھی۔میں