تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 575 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 575

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 567 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ حضرت مولوی صاحب کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت طلب کی۔کہ وہ میرے علاج کے لئے ساتھ چلیں اور یہ بھی عرض کی کہ میں سورو پیہ یومیہ کے حساب سے انہیں فیس دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سنا تو فرمایا۔اگر میں نور الدین کو حکم دوں کہ تو پانی میں چلا جاتو وہ جانے کے لئے تیار ہے۔اگر میں اس کو کہوں کہ آگ میں داخل ہو جاتو وہ میرے حکم سے آگ میں بھی جانے کو تیار ہے۔وہ کسی طرح بھی میرے حکم سے انکار نہیں کر سکتا۔مگر اس کو اپنے سے علیحدہ کرنا نہیں چاہتا۔پیر سراج الحق صاحب نے ایک مرتبہ آپ کو حضرت مسیح موعود کی شکل مبارک میں دیکھا۔حضرت مسیح موعود نے خواب کی تعبیر میں فرمایا۔کہ مولوی صاحب واقعی عقیدت وارادت میں یکتا ہیں۔اور ہم میں فنا ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ابو بکر صدیق کے بارے میں فرمایا ہے کہ آپ فوت ہوئے اور سید النبین و امام المعصومین ﷺ کی قبر کے ساتھ دفن کئے گئے۔آپ نے خدا کے حبیب د رسول کو نہ زندگی میں چھوڑا نہ ممات میں اسی طرح حضرت خلیفہ اول کو یہ سعادت نصیب ہوئی۔کہ آپ نے زندگی اور موت دونوں میں حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے پہلو میں جگہ پائی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ آپ کی نسبت حضرت نواب محمد علی خان صاحب کو لکھا۔مولوی صاحب کا اس صدق اور ثبات کا خط جس کو پڑھ کر رونا آتا تھا۔ایسے آدمی ہیں جن کی نسبت میں یقین رکھتا ہوں کہ اس جہان میں بھی میرے ساتھ ہوں گے اور اس جہان میں بھی میرے ساتھ ہوں گے"۔m |T-A خاندان حضرت مسیح موعود کا حضرت خلیفہ اول کی سیرت طیبہ کے ممتاز ترین پہلوؤں میں سے چوتھا خاص پہلو یہ ہے کہ آپ ادب و احترام اور عقیدت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے ہر فرد کا بے حد ادب و احترام کرتے تھے۔اور حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب (خلیفتہ المسبح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی بابرکت ذات سے تو خاص الخاص انس تھا۔جب آپ حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ کھڑے ہو جاتے اور فرماتے میاں تم مجھ کو بہت ہی پیارے ہو اپنی - مسند پر بٹھاتے۔اور آپ کو علوم کی چاٹ لگانے کے لئے اچھی اچھی کتابیں منگوا کر دیتے۔بعض دفعہ یہ بھی فرماتے کہ ”میاں جب قرآن کریم کا سبق پڑھتے ہیں تو بہت سی آیات مجھے حل ہو جاتی ہیں جن باریکیوں کو یہ پہنچ جاتے ہیں۔میرا د ا ہمہ بھی وہاں تک نہیں پہنچتا"۔a