تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 64
تاریخ احمدیت جلد ۳ 60 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک باعث آپ کو جہاز میں بڑا آرام ملا۔جہاز بندرگاہ سے حدیدہ میں لنگر انداز ہوا تو چونکہ اسے کچھ مدت ٹھہرنا تھا آپ یمنی علماء سے ملاقات کے لئے حدیدہ سے مراعہ پہنچے وہاں کے ایک نوجوان نے آپ سے ( نحو کی کتاب) الفیہ کی اجازت لکھوائی جو بڑے اچنبھے کی بات تھی اور اس کا کچھ حصہ آپ سے پڑھ بھی لیا الغرض یمن کے وسطی حصہ کے حالات کا بچشم خود مطالعہ کرنے کے بعد آپ حدیدہ سے بذریعہ جہاز جدہ پہنچے اور جدہ سے بالاخر مکہ معظمہ کی مقدس سرزمین میں داخل ہوئے۔رستہ میں کئی خدائی نصرت و غیبی مدد کے نظارے آئے جن کی تفصیل آپ کی سوانح عمری میں موجود ہے۔مکہ معظمہ میں پہلی بار مکہ معظمہ میں ایک بزرگ محمد حسین صاحب سندھی رہا کرتے تھے۔آپ ان کے مکان پر اترے انہوں نے اپنا بیٹا آپ کے ساتھ کر دیا کہ آپ کو طواف القدوم کرا دے (یعنی وہ طواف جو مکہ میں آنے والے ہر زائر کو کرنا مسنون ہے) اس طواف میں مطوف آپ کے ساتھ تھا وہ مسنون دعا ئیں بتاتا جاتا تھا اور قدم قدم پر سنن کو نہایت احتیاط سے مد نظر رکھتا تھا۔[ طواف کرتے ہوئے آپ نے پہلے حجر اسود کی طرف جاکر تکبیر کلمہ کہا اور اسے بوسہ دیا۔پھر دائیں دروازے سے ہو کر سات بار خانہ کعبہ کے گرد چکر لگائے اور مقام ابرہیم کے پاس جا کر دو رکعت نماز ادا کی۔آپ کو ایک دو سرے موقعہ پر یہ خصوصیت بھی حاصل ہوئی کہ آپ نے خانہ کعبہ کا طواف ایک دفعہ ایسے وقت میں کیا جب کہ کوئی اور طواف نہیں کر رہا تھا۔چنانچہ اپنی ایک قلمی بیاض میں فرماتے ہیں ایک بار وہ طواف نصیب ہوا جس میں میں تنہا تھا اور دعاؤں میں لذت حاصل كى و هذا فضل و رحمة منك يا ارحم الرحمين " آپ نے کسی روایت کے ذریعہ سنا تھا کہ بیت اللہ نظر آتے ہی جو دعا کی جاتی ہے ضرور قبول ہو جاتی ہے۔محدثین کی نگاہ میں تو یہ روایت ثقہ نہیں مگر اس وقت آپ کے دل میں ایسا خدائی تصرف ہوا کہ آپ نے بیت اللہ شریف پر نظر پڑتے ہی بے اختیار یہ دعا مانگی کہ الہی میں تو ہر وقت محتاج ہوں اب میں کون کون سی دعا مانگوں پس میں یہی دعا مانگتا ہوں کہ میں جب ضرورت کے وقت تجھ سے مانگوں تو اس کو قبول کر لیا کر اس مبارک گھڑی کی یہ دعا خدا کے فضل سے ایسے شاندار رنگ میں پوری ہوئی کہ حیرت آتی ہے بعد میں بڑے بڑے نیچریوں ، فلاسفروں اور دہریوں سے آپ کے بڑے بڑے محر کے ہوئے اور دعا کی برکت سے آپ کو ہمیشہ نمایاں فتح و کامیابی نصیب ہوئی مکہ معظمہ میں آپ نے جن اکابر علماء و فضلاء سے حدیث پڑھی ان کے نام یہ ہیں۔(1) شیخ محمد خزرجی (نسائی، ابو داؤد - ابن ماجہ ) (۲) شیخ الحدیث سید حسین ( صحیح مسلم شریف)