تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 65
تاریخ احمدیت جلد ۳ 61 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک (۳) حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب کیرانوی مہاجر مکہ (موطا) شیخ محمد خارجی کا سبق عبداللہ حلوانی نامی ایک شخص کے مکان پر ہو تا تھا۔سید حسین حرم میں درس دیتے تھے۔II اور مولوی رحمت اللہ صاحب اپنے خلوت خانہ میں پڑھاتے تھے جو مسجد کے صحن کے ساتھ ہی تھا۔حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی کا مکان جس محلہ میں تھا۔اس کا نام حارث الباب ہے اور یہ حرم سے شمال مغرب کی طرف واقع ہے جس میں ترک و عرب آباد ہیں حضرت مولوی نورالدین صاحب بعض اوقات آپ کے مکان پر بھی تشریف لے جاتے تھے اس وقت تو حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب کا حلقہ درس کچھ استاد سیع نہ تھا۔مگر چند سال بعد جب کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب حرمین سے واپس اپنے وطن چلے آئے) آپ نے اسی محلہ میں ۱۸۷۴ء میں مدرسہ صولیہ کی بنیاد رکھی جس نے حکومت کی سرپرستی سے کافی ترقی کرلی اور کثرت سے طلباء پڑھنے لگے۔اس کے بعد سہ منزلہ عمارت میں دار الا قامتہ (بورڈنگ ہاؤس) درسگاہ لیکچر روم اور باہر سے آئے ہوئے طلباء کی رہائش کے لئے علیحدہ علیحدہ کمرے ہیں اور پاس ہی صنعتی سکول اور مسجد بھی ہے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب کو ایک طالب علم کی حیثیت سے یہاں پہنچے تھے مگر آپ اساتذہ کی ہر بات اپنی مجتہدانہ بصیرت سے پر کھتے اور جانچتے تھے آپ کی عادت تھی کہ سبق کو پڑھ کر کسی بڑے کتب خانہ میں اس کتاب کی شرح کا مطالعہ کرتے اور اگر کوئی لغوی الجھن ہوتی تو لغات بھی دیکھ لیتے تھے اور جب تک پوری تسلی نہ ہو جاتی تھی کوئی بات قبول نہ کرتے تھے۔خود فرماتے ہیں۔”میری طبیعت اس وقت بھی بہت آزاد حریت پسند اور دلائل کی محتاج تھی۔" ایک دفعہ آپ ابو داؤد پڑھ رہے تھے۔اعتکاف کے مسئلہ میں حدیث سے معلوم ہو تا تھا کہ صبح کی نماز پڑھ کر انسان معتکف میں بیٹھے آپ کو استاد شیخ محمد خزرجی نے اشارہ کیا کہ حدیث کا حاشیہ پڑھو یہ حدیث بہت مشکل ہے آپ نے عرض کیا کہ یہ حدیث تو بہت آسان ہے حکما یہ دیکھ لیتا ہوں۔چنانچہ آپ نے سرسری طور پر اس کا حاشیہ دیکھا اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ حدیث مشکل ہے کیونکہ اکیس | ۱۳ تاریخ کی صبح کو بیٹھیں تو ممکن ہے اکیسیویں رات لیلتہ القدر ہو ، عصر کو بیٹھیں تو رسول اللہ سے ثابت نہیں۔آپ نے دیکھکر کہا کہ ذرا بھی مشکل نہیں۔یہ حواشی کی غلطی ہے میں ایسی راہ عرض کرتا ہوں جس میں ذرا بھی اشکال نہیں یعنی میں کی صبح کو بیٹھے۔انہوں نے کہا یہ تو اجماع کے خلاف ہے آپ نے کہا امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اجماع محض دعادی ہیں۔ہر ایک شخص اپنے اپنے مذہب کی کثرت کو دیکھ کر لفظ اجتماع بول لیا کرتا ہے اس پر وہ بہت ہی خفا ہو گئے مگر آپ صبح سے لیکر