تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 63 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 63

تاریخ احمدیت جلد ۳ دو سرا باب 59 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک۔سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک (۶۶ - ۱۸۶۵ء تا ۱۸۸۵ء بمطابق ۸۳-۵۱۲۸۲ تا ۱۳۰۳ھ تک) حرمین شریفین کے لئے سفر آپ جب دیار حبیب خدا ( ا ) کے لئے روانہ ہوئے تو بعض روایات کے مطابق آپ کی عمر ۲۵/۲۴ سال کے لگ بھگ تھی گویا عین عنفوان شباب تھا۔سمسی حساب سے یہ ۲۶ - ۱۸۶۵ ہو گا۔بھوپال سے الوداع ہو کر آپ برہان پور اسٹیشن پر اترے۔یہاں ایک شخص نے جو آپ کے والد بزرگوار کا پرانا دوست تھا۔آپ کی بہت خاطر تواضع کی اور چلتے ہوئے ایک ٹوکری پیش کی جب رستہ میں آپ نے یہ کھولی تو اس میں مکہ کے ایک دولتمند کے نام ایک ہزار روپیہ کے چیک کے علاوہ کچھ نقد روپیہ بھی رکھا تھا۔بمبئی پہنچے تو وہاں آپ کی ملاقات مولوی عنایت اللہ نامی ایک بزرگ سے ہوئی۔ان دنوں آپ کو حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی کی مختصری کتاب الفوز الکبیر کا بڑا شوق تھا۔انہوں نے بمبئی کی چھپی ہوئی دکھائی اور کہا کہ اس کی قیمت پچاس روپیہ لوں گا۔آپ نے فورا پچاس کا نوٹ نکال کر دیا اور کتاب لیکر باہر جانے لگے۔انہوں نے اس قدر جلدی جانے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ خرید و فروخت میں ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے۔حنفی لوگ تفارق قولی کے قائل ہیں۔اور محدثین تفارق جسمی کی طرف مائل ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ احتیاطاً دونوں کے موافق سودا صحیح اور قوی ہو جائے اس لئے جانے کا ارادہ کیا ہے۔یہ سنتے ہی وہ جھوم گئے اور آپ کے حسن ذوق کو دیکھ کر پچاس روپے نذر کئے۔آپ نے روپے لینے سے انکار کیا کہ میں طالب علم تو ہوں مگر محتاج نہیں مگر انہوں نے اصرار کر کے آپ کو واپس ہی کر دیئے۔بمبئی سے روانگی کے وقت آپ کو اپنے وطن کے پانچ آدمی حج کو جاتے ہوئے مل گئے جن کے