تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 52
تاریخ احمدیت جلد ۳ 48 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ) کہ آپ ایسی باتوں کا زیادہ خیال نہ کیا کریں۔منشی صاحب موصوف کو قرآن سے بے مثال محبت تھی اور و قاف للقرآن ہونے میں ان کی نظیر نہ تھی ہمیشہ نابینا مرد و عورت کی تلاش میں رہتے اور ان کی شادیوں کے سارے اخراجات اپنی گرہ سے ادا کرتے ان کا ایک محلہ بھی آباد کیا۔ان کے بچوں کے لئے اسی محلہ میں ایک مدرسہ بھی جاری کر رکھا تھا ایک روز ایک لڑکے کو (جس کے والدین نابینا تھے) دیکھ کر ان پر وجد کی سی حالت طاری ہو گئی اور حضرت مولوی صاحب سے کہنے لگے کہ دیکھو ان کی دنوں آنکھیں کیسی اچھی ہیں ؟ وہاں دور دراز علاقوں کے اندھے جمع تھے حتی کہ ایک اندھا سیالکوٹ کا بھی تھا۔گویا یہ دنیا میں اپنی طرز کا واحد اندھوں کا عجائب گھر تھا جسے دیکھ دیکھ کر ان کادل باغ باغ ہوجاتا اور روح فرط مسرت سے جھوم جاتی تھی !! حضرت مولانا نور الدین خلیفتہ المسیح اول نے بھوپال کے مفتی صاحب سے ایک حدیث مسلسل بھی سنی جو حضرموت کے ایک بزرگ محمد بن ناصر حضرمی نے ان تک پہنچائی تھی۔حضرت مولوی صاحب کی دو نہایت عمدہ صدریاں تھیں جن کے پہننے کی ہمیشہ آپ کو عادت تھی ان میں سے ایک چوری ہو گئی۔آپ نے اس یقین سے کہ طالب علمی میں یہ ایک مصیبت ہے اور مصیبت میں صبر کرنے والے کو جناب الہی سے نعم البدل عطا ہو تا ہے دوسری صدری بھی اس کے شکریہ میں دے دی۔تھوڑے دنوں بعد ایک امیر کبیر لڑکا سوزاک میں گرفتار ہو گیا اس نے ایک شخص ( پیر ابو احمد مجددی) سے کہا کہ کوئی غیر معروف سا طبیب لاؤ جو بنی ہوئی دوا کی بجائے سل کی دو ابتلا دے تا اس کے بنانے میں عام نوکروں کو آگاہی نہ کرنی پڑے۔پیر ابو احمد مجد دی آپ کو وہاں لے گئے۔آپ نے حقیقت حال دریافت کر کے کہا کہ کیلے کی جڑ کا ایک چھٹانک پانی صاف کریں اور اس میں وہ قلمی شورہ ملا کر جو آپ کے دالان میں بارود کے لئے رکھا ہے کئی دفعہ پئیں اور شام تک مجھے اطلاع دیں۔آپ یہ کہہ کر چلے آئے۔قدرت الہی سے اسے شام تک کافی تخفیف ہو گئی۔اس نے آپ کو ایک گران بها خلعت اور استار و پیہ دیا کہ آپ پر حج فرض ہو گیا۔اب آپ نے حرمین کا ارادہ کر لیا۔جب بھوپال سے رخصت ہونے لگے تو مولوی عبد القیوم صاحب سے آخری ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔سینکڑوں آدمی مشایعت کی غرض سے آپ کے ہمراہ تھے جن میں اکثر علماء اور معزز طبقہ کے آدمی تھے۔آپ نے مولوی عبد القیوم صاحب سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی بات بتا ئیں جس سے میں ہمیشہ خوش رہوں۔فرمایا کہ نہ خدابنتانہ رسول - آپ نے عرض کیا کہ حضرت میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی اور یہ بڑے بڑے عالم موجود ہیں غالبا یہ بھی نہ سمجھے ہوں کے سبھی نے کہا کہ ہم بھی نہیں سمجھے مولوی عبد القیوم صاحب نے پوچھا کہ تم خدا کس کو کہتے ہو۔آپ