تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 51 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 51

تاریخ احمدیت جلد ۳ 47 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) شریف کا لوگوں کو لفظی ترجمہ پڑھایا کرتے تھے۔ایک دفعہ حضرت مولانا نور الدین صاحب خلیفتہ الصحیح اول کو بھی وہاں اس درس میں شریک ہونے کا اتفاق ہو گیا۔اس وقت منشی صاحب موصوف اس آیت کا ترجمہ کر رہے تھے و اذا لقوا الذين امنوا قالوا امنا و إذا خلا بعضهم الى بعض (بقره ع۹) آپ نے کہا کہ کیا اجازت ہے کہ ہم لوگ کچھ سوال بھی کریں۔منشی صاحب نے کہا۔بڑی خوشی ہے۔آپ نے فرمایا یہاں بھی منافقوں کا ذکر ہے اور یہاں خدا تعالیٰ نے نرم لفظ بولا ہے یعنی بعضهم الى بعض۔اور اس سورۃ کے ابتداء میں جہاں انہیں منافقین کا ذکر ہے وہاں بڑا تیز لفظ استعمال ہوا ہے یعنی یہ کہا گیا ہے اذا خلوا الى شيطينهم (بقره ع ۲) اس نرمی اور اس سختی کی کیا وجہ ہے منشی صاحب نے فرمایا۔ہمیں تو نہیں آتا۔کیا آپ جانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا میرے خیال میں یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ مدینہ منورہ میں دو قسم کے منافق رہتے تھے۔ایک اہل کتاب اور ایک مشرک۔اہل کتاب منافق کے لئے نرم لفظ استعمال ہوا ہے اور مشرک منافق کے لئے سخت۔منشی صاحب اس نکتہ کو سن کر اس قدر مسرور ہوئے کہ اس وقت اپنی مسند سے اٹھ کھڑے ہوئے اور جہاں آپ تھے وہاں آگئے اور آپ کو فرمایا کہ آپ مسند پر جا بیٹھیں۔اب آپ ہی قرآن پڑھایا کریں اور ہم آپ سے قرآن سیکھیں گے۔اس طرح ایک ہی نکتہ پر آپ قرآن مجید کے مدرس و مفسر بن گئے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے معارف اور نکات ایسے سکھلا دیئے تھے کہ جب آپ بیان فرماتے تو اس سے لوگوں کو بڑا فائدہ پہنچا اور منشی صاحب کو آپ کا قرآن پڑھانا ایسا پسند آیا کہ آپ سے بے حد محبت کرنے لگے۔یہاں تک کہ آپ کے بغیر کھانا بھی نہیں کھاتے تھے۔ایک دفعہ منشی صاحب کی مجلس میں ایک اخلاقی مسئلہ پیش ہوا۔آپ بھی وہاں موجود تھے قاضی شہر نے شاہ اسحاق صاحب محدث دہلوی کی نسبت کوئی سخت لفظ کہا۔جس کو آپ برداشت نہ کر سکے اور آپ مجلس سے اٹھ کر چلے گئے اور کھانے کے وقت منشی صاحب کے دسترخوان پر بھی نہ آئے۔منشی صاحب نے بھی ان کے بغیر کھانا نہ کھایا۔دوسرے دن منشی صاحب دریافت کر کے خود اس جگہ تشریف لے گئے جہاں آپ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے وہ آپ کے داہنی طرف بیٹھ گئے جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا۔اخاہ ! آپ نے تو سلام کی ابتداء ہی کر دی۔اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اٹھا لیا۔اور بگھی میں سوار کر کے لے چلے اور فرمانے لگے کہ آپ نے تو ہم کو کل سے بھوکا رکھا ہے۔آپ نے فرمایا آپ کی مجلس میں حضرت شاہ اسحاق صاحب کی توہین ہوتی ہے اور میں شاہ صاحب کا عاشق ہوں میں ان کی تو ہین گوارا نہیں کر سکتا۔منشی صاحب نے فرمایا کہ ہم تو شاہ صاحب کے شاگر داور سخت معتقد ہیں انہوں نے ہی تو ہم کو شیعہ سے سنی بنایا تھا۔اس وقت ایک سرکاری معالمہ تھا ایسی باتوں کی طرف زیادہ التفات نہیں چاہئے۔یہ کہہ کر بگھی مکان کی طرف لے آئے اور کھانا پیش کیا اور دوبارہ کہا