تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 50
یت- جلد ۳ 46 خلیفتہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) صاحب خود ہی معہ اپنے ہمراہیوں کے آپ کے پاس پہنچے۔آپ مارے ضعف کے ہل جل بھی نہیں سکتے تھے اسی طرح ہی لیٹے رہے۔منشی صاحب نے پوچھا کہ آپ کچھ پڑھے ہوئے ہیں آپ نے کہا ہاں پڑھا ہوا ہوں پھر انہوں نے کہا آپ کیا علوم جانتے ہیں۔آپ نے کہا سب ہی کچھ جانتا ہوں۔اس پر منشی صاحب نے اپنی نبض دکھلائی آپ نے نبض دیکھ کر کہا کہ بد ہضمی ہے نسخہ طلب کیا آپ نے قیمتی نسخہ لکھ دیا۔انہوں نے کہا۔اگر فائدہ نہ کرے تو کیا ہو گا۔آپ نے بڑی سختی سے کچھ جواب دے دیا۔پھر انہوں نے سوال کیا کہ آپ علم مساحت جانتے ہیں آپ نے کہا ہاں جانتا ہوں۔سامنے ایک بڑا تالاب تھا انہوں نے کہا یہاں بیٹھ کر آپ اس کی مساحت کر سکتے ہیں آپ نے کہا ہاں۔غرض آپ نے ایک قاعدہ بتایا اور وہ مطمئن ہو کر چلے گئے اور رستے میں سے کہلا بھیجا کہ ہم آپ کی ضیافت کرتے ہیں آپ اٹھ بیٹھ تو سکتے نہیں تھے آپ نے جواب دے دیا کہ ہمیں ضیافت کی ضرورت نہیں۔پھر اس کے بعد نشی صاحب موصوف نے آپ کے پاس دوبارہ آدمی بھیجا کہ مسنون دعوت ہے آپ نے سنت پر عمل کرنے کے لئے منظور کر لیا غرض ایک سپاہی کھانے کے وقت بلانے آیا۔آپ نے فرمایا میں چل نہیں سکتا۔اس آدمی نے آپ کو اپنی پشت پر اٹھالیا اور منشی صاحب کے مکان پر لے گیا۔دستر خوان پر کھانا چنا ہوا تھا جب آپ منشی صاحب کے قریب بیٹھے تو غور کے بعد پلاؤ کی رکابی سے ایک لقمہ اٹھایا مگر بوجہ ضعف ڈرے کہ کہیں حلق میں لقمہ پھنس نہ جائے اس واسطہ اسے پھینک دیا۔اور اس کی بجائے تھوڑا سا مرغ کا شور با پی لیا۔جس سے آپ کی جان میں جان آئی اور آنکھیں روشن ہو گئیں کھانے سے فراغت کے بعد منشی صاحب نے آپ سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ اور یہاں کس غرض سے آئے ہیں۔ان دنوں آپ کا اردو لب ولہجہ لکھنوی طرز پر تھا۔آپ نے فرمایا کہ میں ایک پنجابی ہوں یہاں پڑھنے کے ارادہ پر آیا ہوں یہ بات بہت مفید ثابت ہوئی منشی صاحب کو یہ گمان تھا کہ یہ کوئی آسودہ حال مگر صدمہ رسیدہ ہے پڑھنے کا یونہی نام لیتا ہے ورنہ یہ خود عالم ہے۔چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ بہت بہتر آپ ہمارے ہاں رہا کریں اور ہمارے ہی ساتھ کھانا کھایا کریں۔اور جہاں آپ پڑھیں گے ہم آپ کو مدد دیں گے غرض منشی صاحب نے توشہ خانہ میں رہنے کو ایک کمرہ دے دیا اور مستم کتب خانہ کو کہہ دیا کہ جو کتاب آپ پڑھنا چاہیں آپ کو مت روکیں اور دوکان سے بھی اسباب منگوالیا گیا۔اس کے بعد آپ نے حضرت مولوی عبد القیوم صاحب سے جو ایک باخدا بزرگ و عالم تھے صحیح بخاری اور ہدایہ پڑھنا شروع کیا اور ایک مدت تک سبق جاری رکھا۔منشی جمال الدین صاحب گو مدار الہام تھے اور اس ریاست میں سب سے بڑے جلیل القدر متعین تھے تاہم ان کو قرآن کریم کی اشاعت کا بے حد شوق تھا۔آپ بعد نماز مغرب قرآن منصب و