تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 49
تاریخ احمدیت جلد ۳ 45 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی (تحمل از خلافت) باجماعت نمازیں پڑھنے لگے۔گو نہ چھاؤنی سے آگے چل کر تھوڑی دور رستے میں ایک اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑا۔رستے میں ایک زمیندار نے کہا کہ اس سڑک پر آپ لوگ نہ جائیں مری یعنی ہیضہ پڑا ہوا ہے۔مگر محمود خان نے اسی طرف سے جانے پر اصرار کیا۔گو آپ نے رو کا مگر نہ رکا۔الغرض وہ ہیضہ میں گرفتار ہو کر دو تین روز میں مرگیا۔اور اس کے دفن کرنے میں آپ کو بڑی دقت ہوئی۔کافی روپیہ دے کر اس کی قبر کے لئے جگہ خریدی اور اس کو خود ہی تجہیز و تکفین کر کے دفن کیا۔اور باوجود منت و سماجت کے کسی نے اس کے دفن کرنے میں مدد نہ دی۔تین چار روز تک کچھ کھانے پینے کو بھی نہ ملا۔آخران میں سے ایک آدمی کا اکلوتا بیٹا بتلائے ہیضہ ہوا اور وہ دو ڑا ہوا آپ کے پاس آیا کہ چلو میرے ہاں روٹی کھاؤ اور میرے لڑکے کو دیکھو۔آپ اس کے گھر گئے اور اس کے لڑکے کا علاج کیا اور وہ خدا کے فضل سے بچ گیا۔پھر تو تمام شہر میں آپ کی طبابت کی شہرت ہو گئی اور لوگ دوڑے دوڑے آئے یہ حال دیکھ کر اس نمبردار نے جس نے قبر کے لئے روپیہ لے لیا تھا۔منت سماجت کر کے روپیہ واپس کر دیا بلکہ وعدہ کیا کہ ہم آپ کو اپنے خرچ سے بھوپال تک پہنچادیتے ہیں چنانچہ اس نے اپنا د عدہ ایفا کیا۔رستے میں آپ کو کنگن ولی کے مزار پر جانے کا اتفاق ہوا۔جو شیخ المشائخ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کے بزرگان سے تھے۔ان کا نام نامی حضرت شاہ وجیہہ الدین تھا اور اس جگہ کو جہاں ان کا مزار ہے گنج شہید ان کہتے ہیں۔جب آپ بھوپال میں پہنچے تو شہر کے باہر ایک سرائے میں اپنا اسباب اور روپیہ رکھ دیا۔اور اپنے ہمراہ صرف ایک روپیہ لے کر چل دیئے۔شہر کے اندر بلا کسی خاص اجازت کے جانے نہیں دیتے تھے آپ اندر شہر کے داخل ہوئے آپ کو بھوک لگی ہوئی تھی باد رچی کی دکان پر گئے اور آٹھ آنے میں ایک وقت کا کھانا ملا۔کھانا کھا کر شہر میں گشت لگانے گئے تو اٹھنی جو باقی تھی وہ کہیں گر گئی جب سرائے میں گئے تو دیکھا کہ اسباب میں روپیہ ندارد۔کوئی لے گیا یا سرائے والے نے چرا لیا۔غرض وہاں سے اسباب اٹھا کر شہر میں لے گئے اور طباخی کی دکان پر کتابیں وغیرہ رکھ کر شہر میں پھرتے رہے اور ایک مسجد میں جو باجی کی مسجد سے موسوم ہے ٹھر گئے۔وہاں کوئی واقفیت نہ تھی۔اور نہ پاس رد پیہ رہا تھا اس لئے کئی روز تک فاقہ کشی کرنی پڑی۔اور بالا خر فاقہ سے نوبت یہاں تک پہنچی کہ مارے بھوک کے آپ کی جان قریب بہ ہلاکت ہو گئی۔آپ مسجد مذکور کے چبوترہ پر لیٹے ہوئے تھے کہ ناگہاں اللہ تعالٰی نے منشی جمال الدین صاحب مدار لہام ریاست بھوپال کو وہاں بھیج دیا منشی صاحب نے نماز سے فارغ ہو کر امام مسجد کو آپ کے پاس دریافت حال کے لئے بھیجا۔آپ نے امام صاحب کو کچھ روکھا سا جواب دیا۔امام صاحب اپنا سا منہ لے کر منشی صاحب کے پاس گئے معلوم نہیں امام صاحب نے کیا جا کر کہا۔خیر منشی