تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 47 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 47

تاریخ احمدیت جلد ۳ 43 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی تحمل از خلافت ) یہ پہلی مثال نہیں قبل ازیں لکھا جا چکا ہے کہ آپ کے جذب نے حکیم صاحب پر وہ اثر کیا ہوا تھا کہ اب وہ آپ کو اپنا پیرو مرشد تسلیم کرتے تھے اور مفتی صاحب جیسے بڑے آدمی منت سے کہتے تھے کہ ہم آپ کے پڑھانے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔اس سے اس حدیث کی بھی کیسی وقعت اور شان بڑھ جاتی ہے کہ طالب علم کے لئے فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں۔رامپور ہی کا واقعہ ہے کہ طلباء میں یہ سوال اٹھا کہ اہل کمال اپنا کمال کسی کو بتاتے ہیں یا نہیں ؟ آپ کا دعوی تھا کہ اہل کمال تو اپنا کمال بتانے اور سکھانے میں دریغ نہیں کرتے مگر کوئی سیکھنے والا ہی نہیں ہے مگر دو سرے اس کے مخالف تھے۔آپ نے کہا کہ یوں اس جھگڑے کا تصفیہ نا ممکن ہے اول تم کوئی اہل کمال پیش کرو اس کے پاس جانے پر فیصلہ ہو جائے گا۔انہوں نے ایک صاحب کمال امیر شاہ عامل کا نام لیا۔غرض سب طلباء عامل موصوف کے باغیچہ میں گئے۔عامل صاحب ایک تخت پر لیٹے ہوئے تھے اور سامنے ایک چھوٹی سی چٹائی بچھی ہوئی تھی۔بڑے طلباء تو اس چٹائی پر بیٹھ گئے اور باقی زمین پر اور آپ دیوار کے پاس کھڑے رہے۔عامل صاحب نے آپ کو کھڑا دیکھ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔اور آنے کا سبب پوچھا۔سب حال بیان کیا گیا۔انہوں نے سن کر فرمایا کہ یہ صاحب (یعنی حضرت مولانا نور الدین) حق بجانب ہیں۔پھر اٹھنے لگے تو عامل صاحب نے کہا۔ذرا ٹھہرو اور وہ اندر چلے گئے۔اور ایک بہت بڑی منحنیم قلمی کتاب اٹھالائے اور فرمایا کہ یہ میری ساری عمر کی اندوختہ ہے اور اس میں عملیات کا خزانہ ہے اور میں بڑی خوشی سے آپ کو دیتا ہوں۔آپ نے کہا کہ میں طالب علم ہوں ابھی تعلیم پاتا ہوں مجھے فرصت نہیں اور نہ مجھے اس کی ضرورت ہے وہ سن کر چشم پر آب ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کو دیتے ہیں اور آپ لیتے نہیں اور یہ لوگ ( مراد طلباء ) مانگتے ہیں اور ہم ان کو دیتے نہیں۔چلتے ہوئے شاہ صاحب موصوف نے آپ کو ایک عجیب نکتہ بتایا اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص آپ کے پاس کسی غرض کے لئے آئے تو آپ درگاہ ایزدی میں دعا کریں کہ الہی میں نے اس کو نہیں بلایا۔تو نے خود بھیجا ہے جس کام کے لئے وہ آیا ہے اگر آپ کے ہاں منظور نہیں تو جس گناہ کے لئے میرے لئے یہ سامان ذلت بھیجا گیا ہے میں اس سے تو بہ کرتا ہوں۔اس دعا کے بعد اگر وہ شخص اصرار کرے تو آپ دوبارہ دعا مانگ کر کچھ لکھ دیا کریں۔ITO سفر میرٹھ و دہلی حضرت مولوی صاحب دو برس تک حکیم صاحب کے پاس رہے اور ہمشکل قانون بو علی سینا کا عملی حصہ ختم کیا۔اور سند حاصل کرنے کے بعد ان سے اجازت چاہی کہ عربی کی تکمیل اور حدیث پڑھنے کے لئے جاتا ہے انہوں نے میرٹھ اور دہلی جانے کا مشورہ دیا۔اور نہایت محبت سے فرمایا کہ ہم معقول خرچ ان دونوں شہروں میں تمہیں بھیجا کریں گے۔