تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 46
تاریخ احمدیت جلد ۳ 42 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) مطب میں ہی چھوڑ دیا۔اور اپنے کمرہ میں چلا گیا۔کسی دوسرے وقت حکیم صاحب آئے اور بیاض کو اس طرح کھلا پڑا ہوا دیکھ کر اٹھایا اور مجھے دیا۔میں نے عرض کیا اس کو کیا کروں۔نسخہ لکھنا تو تشخیص پر منحصر ہے اور اس میں کوئی تشخیص نہیں اس پر متبسم ہو کر کہا کہ بات تو ٹھیک ہے"۔آپ اس کو رس کو (جو اندھا دھند ملک میں اب تک رائج ہے) پڑھنا تفضیع اوقات سمجھتے تھے۔آپ کا خیال تھا اور وہ خیال بالکل بجا تھا کہ جس طرح اور علوم میں ایک ملکہ پیدا ہونے پر دوسری کتابوں کے پڑھنے اور سمجھنے پر انسان قادر ہو سکتا ہے۔اسی طرح طب کا حال ہے اس واسطے آپ نے طول و طویل کورس طب کا پڑھنا تفضیع اوقات سمجھ کر قانون کے عملی حصہ کو پڑھ لینا کافی سمجھا۔اس عرصہ میں آپ نے حکیم صاحب کی ہدایت پر ایک مولوی محمد اسحاق نگینوی کو شرح اسباب پڑھاری اور آپ کو اس کے پڑھانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ کو دیوان متنبی کے پڑھنے کا شوق ہوا آپ مفتی سعد اللہ صاحب کی خدمت میں گئے۔آپ نے ان کی بڑی منت سماجت کی کہ آپ مجھے متنبی کا ایک سبق پڑھا دیا کریں۔مگر مفتی صاحب نے صاف انکار کر دیا۔آپ نے جلالی شان میں آکر کہا کہ اچھا ہم بھی اسی وقت پڑھیں گے جب آپ ہماری منت کریں گے یہ کہہ کر اپنے مکان پر چلے آئے۔اور اسی فرط رنج و غم سے آپ نے حکیم صاحب سے کہا کہ اب ہم علم پڑھنا پسند نہیں کرتے۔انہوں نے فرمایا کہ کیوں ؟ آپ نے کہا کہ آپ نمایت علم بتائیں کہ اس سے کیا نتیجہ ملتا ہے۔حکیم صاحب نے کہا کہ علم سے اخلاق فاضلہ پیدا ہوتے ہیں۔خیر آپ سن کر خاموش ہو رہے۔حکیم صاحب نے محبت سے پوچھا کہ کیا بات ہے آپ یوں متفکر ہیں آپ نے فرمایا کہ مفتی سعد اللہ صاحب کے پاس گیا تھا اور ان سے کچھ پڑھنے کی درخواست کی تھی مگر انہوں نے خشک سا جواب دے دیا ہے کہ ہمیں فرصت نہیں۔حکیم صاحب نے اسی وقت ایک پرچہ مفتی صاحب کو کچری میں لکھ بھیجا کہ کچھری سے اٹھتے ہی ادھر سے ہوتے جائیں۔مفتی صاحب تشریف لائے حکیم صاحب نے آپ سے پہلے ہی سے کہہ رکھا تھا کہ آپ اپنی کو ٹھڑی میں جاکر بیٹھیں۔حکیم صاحب نے مفتی صاحب سے کہا کہ اگر میں پڑھنا چاہوں تو آپ کچھ وقت دے سکتے ہیں۔مفتی صاحب نے کہا کہ ہاں بہت وقت دے سکتا ہوں۔حکیم صاحب نے پھر فرمایا کہ اگر ہمارے پیرو مرشد پڑھیں تو آپ وقت دے سکیں گے ؟ مفتی صاحب نے کہا کہ ان کو ہم وہاں پڑھا دیا کریں گے جہاں وہ چاہیں گے۔تھوڑی دیر کے بعد حکیم صاحب نے آپ کو طلب فرمایا۔آپ جب سامنے ہوئے تو مفتی صاحب دیکھ کر ہنس پڑے اور کہا کہ آؤ صاحب اب ہم آپ کی منت کرتے ہیں کہ آپ ہم سے پڑھیں اور ہم ضرور پڑھائیں گے۔اور