تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 48
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 44 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) لر جب آپ میرٹھ پہنچے تو حافظ احمد علی صاحب سہارنپوری کلکتہ کو چلے گئے تھے اور مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی مجاہدین کو روپیہ پہنچانے کے مقدمہ میں ماخوذ تھے۔یہ ۶۵۔۱۸۶۴ء کا واقعہ ہے۔اس طرح ان دونوں اصحاب سے ایک حرفی تک پڑھنے کا موقعہ نہ مل سکا۔اور گو ایک دوسرے وقت میں آپ نے حافظ صاحب سے پھر بھی بہت کچھ استفادہ کیا مگر مولوی نذیر حسین صاحب سے تو بالکل کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول خود فرمایا کرتے تھے۔” میں نے دہلی میں نذیر حسین سے پڑھنے کا کئی بار قصد کیا مگر موقعہ نہ نکلا آخر اس کی حکمت مجھ پر اب کھلی کہ وہ مکذب رسول نکلا۔ورنہ دہلی کے محمد اسماعیل شاہ عبد الغنی سے میں نے بہت فائدے اٹھائے ہیں۔بھوپال میں پہلی مرتبہ آمد میرٹھ اور دہلی میں جب آپ کو حصول تعلیم میں کامیابی نہ ہوئی تو آپ ریاست بھوپال کی طرف روانہ ہو گئے گوالیار پہنچے تو حضرت [ITA] سید احمد بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کے مخلصین میں سے ایک بزرگ سے ملاقات ہو گئی ان کی صحبت سے آپ کو ایسی خوشی ہوئی کہ وہیں رو پڑے انہوں نے دوران ملاقات میں خواجہ محمد وزیر وزیر کا یہ قطعہ پڑھا جس نے آپ کے دل پر بڑا گہرا اثر کیا نہ کر عوض مرے عصیان و جرم بے حد کا کہ تیری ذات غفور الرحیم کہتے ہیں کہیں نہ کہہ دے عدد دیکھ کر مجھے غمگیں یہ اس کا بندہ ہے جس کو کریم کہتے ہیں گوالیار میں چند دن قیام کے بعد آپ ایک ساتھی محمود نامی افغان کے ساتھ آگے روانہ ہوئے۔یہ سفر نہایت کٹھن تھا۔پاؤں زخمی اور ماندہ ہو گئے تھک کر ایک چھاؤنی گونہ نامی میں شب باش ہوئے ایک مسجد ویران پڑی ہوئی تھی۔وہاں ٹھہرے بہت حصہ رات کا گذرا تھا کہ ایک آدمی نماز پڑھنے کے لئے آیا۔آپ نے فرمایا کہ آپ بڑی دیر سے نماز پڑھتے ہیں اس نے ذکر کیا کہ یہ مسجد بڑی آباد تھی اور پانچ وقت یہاں باجماعت نماز ہوتی تھی یہاں رفع یدین اور آمین بالجھر کا جھگڑا ہوا اور قریب تھا کہ لوگ کٹ کر ڈھیر ہو جائیں آخر کو ایک امیر نے کہہ دیا کہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کریں۔مسجد میں کوئی نماز نہ پڑھے۔ورنہ ان مولویوں کے کہنے سے سب ہلاک ہو جاؤ گے اس پر سب نے مسجد میں آنا چھوڑ دیا۔اس لئے جب سب لوگ رات کو سو جاتے ہیں تو میں مسجد میں آکر نماز پڑھتا ہوں آپ نے کہا کہ کل تم تمام لوگوں کو خبر کر دو کہ ایک شخص آیا ہے اور وعظ کرنا چاہتا ہے چنانچہ اس شخص نے تمام لوگوں کو آگاہ کر دیا اور لوگ جمع ہو گئے۔آپ نے اتفاق پر وعظ فرمایا اور کہا کہ ان چھوٹے چھوٹے اختلافوں کی وجہ سے اتنے بڑے عظیم الشان محکم خدا یعنی نماز با جماعت کو ترک کر دینا سخت غلطی ہے۔خدا کے فضل سے آپ کے وعظ کا ایسا عمدہ اثر ہوا کہ مسجد پھر آباد ہو گئی اور لوگ