تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 37
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 33 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) فکر لگی ہوئی تھی کہ ایک جگہ ٹھہرنا ان کے لئے محال تھا آپ ایک سال تک سفر و حضر میں ان کے ہمراہ رہے اور عربی زبان کی ابتدائی درسی کتابیں نہایت تکلیف سے پڑھیں اور تنگ آکر اپنے بھائی مولوی سلطان احمد صاحب سے کہا وہ آپ کو لاہور لائے اور آپ کو حکیم محمد بخش صاحب اور چند اور اساتذہ کے سپرد کر کے بھیرہ تشریف لے آئے۔مولوی سلطان احمد صاحب کے جاتے ہی ایک طالب علم نے ہندوستان جاکر تعلیم سفر رامپور حاصل کرنے کی ترغیب دی۔چنانچہ آپ ایک لمبے سفر پر محض علم کے حصول کے لئے لاہور سے نکل کھڑے ہوئے آپ کے ساتھ دو اور طالب علم بھی تھے۔ایک کا نام مولوی محمد مصطفیٰ اور دوسرے کا مولوی علاؤ الدین تھا۔سنت رسول کے مطابق ایک صاحب امیر مقرر ہوئے اور یہ قرار پایا کہ کسی ایسے شہر میں تین برس تک رہیں جہاں بہت زیادہ عالم ہوں تا مختلف علوم میں زیادہ سے زیادہ دسترس حاصل ہو سکے۔چلتے چلتے ایک بستی کا بدلہ میں پہنچے تو مولوی نور الحسن صاحب ایک پاک صورت اور معمور الاوقات بزرگ ملے انہوں نے کا بدلہ میں ہی قیام کرنے کی فرمائش کی مگر آپ کا اصل ازادہ رامپور جانے کا تھا جو ان دنوں مشرقی علوم کا مرکز تھا اور لکھنو اور دہلی کے تمام کاملین علوم و فنون وہاں جمع تھے۔اس لئے آپ نے وہاں ٹھہرنا پسند نہ کیا۔اور آپ بالا خر رامپور میں پہنچ گئے۔سب غریب الدیار تھے اور کوئی واقفیت نہیں تھی۔ناچار مینوں نے ایک مختصر اور ویران سی مسجد میں ڈیرہ ڈال دیا۔جب کھانے کا وقت آیا۔تو سات آٹھ سال کی ایک بچی کھانا لے آئی۔کھانا کھا کر آپ شہر میں علماء کی جستجو میں گھومتے رہے دوسرے دن بھی یہی بچی کھانا لائی تیسرے دن اس نے کھانا پیش کرتے ہوئے کہا کہ میری امی کہتی ہیں کہ آپ دعا کریں کہ میرا خاوند میری طرف توجہ کرے آپ اس کے خاوند کے ہاں پہنچے اور خوب وعظ کیا۔جس پر اس نے اپنی بیوی سے حسن سلوک شروع کر دیا۔رامپور میں ایک محلہ پنجابیوں کا بھی ہے آپ اسی دن شام کے قریب اکیلے ہی اس محلہ میں تشریف لے گئے وہاں مولوی حافظ عبد الحق صاحب سے آپ کو تعارف ہوا وہ بڑی مروت اور محبت سے پیش آئے اور انہوں نے سرسری سی پہلی ملاقات میں ہی تینوں طلبہ کے قیام و طعام بلکہ کتابوں کی فراہمی تک کی ذمہ داری اٹھالی اور استادوں کی بھی ! چنانچہ آپ اپنے ساتھیوں سمیت انہی کی مسجد میں مقیم ہو گئے حافظ صاحب نے بھی ایک سال تک اپنے عہد کو کمال خوبی سے نبھایا اور اہل محلہ کا بھی آخر تک آپ کے ساتھ نہایت عمدہ سلوک رہا ! رامپور میں آپ نے مشکوۃ شریف سید حسن شاہ صاحب سے۔1 شرح وقایہ (فقہ) مولوی عزیز اللہ افغان سے اور اصول شاشی (فقہ) اور میبدی (فلسفه) مولوی ارشاد حسین صاحب مجددی سے دیوان متنبی (عربی) مفتی محمد سعد اللہ صاحب سے صدری