تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 38 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 38

تاریخ احمدیت جلد ۳ 34 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) (منطق) وغیرہ مولوی عبد العلی صاحب سے ) اور ملا حسن (منطق) سعد اللہ ر ڈیال (پنجاب) سے پڑھیں۔حضرت مولوی نور الدین خلیفہ المسیح اول کے خیالات پر حضرت مولوی محمد اسماعیل شہید دہلوی کا بڑا گہرا اثر تھا گو آپ کے خاندان کو ان عقائد سے قطعا واقفیت نہ تھی۔اب جو آپ رامپور وغیرہ میں آئے تو آپ کو دوسری درسی کتابوں کے علاوہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تالیفات میں سے حجتہ اللہ البالغہ ”ازالۃ الخفاء " اور " خیر کثیر" کے پڑھنے کا بھی موقعہ ملا۔اور آپ حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے دل سے معتقد ہو گئے۔411 رامپور میں آپ کو کئی ایسے واقعات پیش آئے جن میں سے بعض کا ذکر دلچسپی کا موجب ہو گا۔ا۔جس طالب علم کی تحریک پر آپ نے یہ طویل سفر اختیار فرمایا تھاوہ چپکے سے کہیں چل دیئے اور اب آپ دو ہی رہ گئے ان دنوں آپ اکثر طالب علموں میں رہا کرتے تھے ایک دفعہ بہت سے طالب علموں کا نحو کے ایک مسئلہ پر گرما گرم مباحثہ ہو رہا تھا جو سوال زیر بحث تھا اس کا ایک مکمل جواب خدا نے آپ کو سمجھا دیا اور آپ نے بلند آواز سے کہا کہ میں اصل سوال کا جواب دیتا ہوں بہت سے طالب علموں نے آپ کا مذاق اڑایا مگر پنجابی طالب علم آپ کے طرفدار ہو گئے۔اور کہا کہ پہلے امتحان لیا جائے کہ اس نے سوال سمجھا ہے یا نہیں اگر سوال سمجھا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے جواب کو توجہ اور قدر سے نہ سنا جائے۔اس پر مباحثہ کسی قدر سرد پڑ گیا۔آپ نے تجویز پیش کی۔کہ نحو کا کوئی بڑا عالم ثالث مقرر کرد۔چنانچه اتفاق رائے سے ایک بزرگ مولوی غلام نبی صاحب ثالث قرار پائے جب ان کے سامنے یہ عالمہ رکھا گیا تو انہوں نے آپ سے اصل سوال اور اس کا جواب سن کر کہا۔کہ اس سوال کے در جواب " شرح ملا جامی " میں لکھے ہیں پھر وہ جو اب بھی سنائے مگروہ جو اب اس درجہ کمزور تھے کہ خود مولوی صاحب نے تسلیم کیا کہ یہ بہت کمزور ہیں مگر آپ کے جواب کو بہت صحیح قرار دیا۔نیز کہا کہ یہ لوگ تو آپ سے کبھی نہ مانتے جب تک وہی جواب نہ سنتے جو کتاب میں درج ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ جواب آپ کے غور و فکر کا نتیجہ ہے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب اس تقریر سے خوش ہوئے۔مگر ساتھ ہی فیصلہ کر لیا کہ اب میں شرح جامی تک کی کتابیں ہرگز نہیں پڑھوں گا۔اور اس کی بجائے دوسری کتابیں مختلف اساتذہ سے شروع کر دیں۔۲۔فلسفہ کی کتاب میبذی پڑھنے میں آپ کو یہ افسوسناک تجربہ ہوا کہ جو باتیں آپ کے دل میں کھٹکتی تھیں ان کے بارے میں اساتذہ کا ذہن بھی صاف نہیں ہو تا تھا سمجھانا تو درکنار وہ خود بھی نہیں سمجھتے تھے اس وجہ سے نہ صرف اس کتاب سے آپ کو سخت کراہت پیدا ہو گئی بلکہ آپ کو پہلی مرتبہ