تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 36
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 32 خلیفہ المسیح الاول" کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ) تفصیل خود حضرت خلیفتہ المسیح اول کی زبان مبارک سے لکھتا ہوں۔فرماتے ہیں " میں پنڈ دادنخاں میں ہیڈ ماسٹر تھا وہاں انسپکٹر مدارس آگئے۔میں اس وقت کھانا کھا رہا تھا۔میں نے ان کو کہا کہ آپ بھی آجائیں۔تو انہوں نے بجائے اس کے کہ میرے ساتھ کھانا کھاتے۔مجھے فرمایا کہ آپ نے مجھے پہچانا نہیں ؟ میں انسپکٹر مدارس ہوں اور میرا نام خدا بخش ہے۔میں نے کہا آپ بہت ہی نیک آدمی ہیں مدرسوں کے ہاں کھانا نہیں کھاتے تو بس پھر تو یہ بہت ہی بہتر ہے یہ کہہ کر میں بڑے مزے سے اپنی جگہ پر بیٹھا رہا۔اور وہ بچارا اپنا گھوڑا خود ہی پکڑے ہوئے اس بات کا انتظار کر تا رہا۔کہ شاید اب بھی یہ کسی لڑکے کو میرا گھوڑا پکڑنے کے لئے بھیج دے۔جب میں نے کوئی لڑکا نہ بھیجا تو اس نے خود مجھ سے کہا کہ کسی لڑکے کو تو بھیج دیجئے۔جو میرا گھوڑا تھام لے۔میں نے کہا جناب آپ مدرسوں کے گھر کا کھانا تو کھاتے ہی نہیں کیونکہ آپ اس کو رشوت سمجھتے ہیں تو پھر ہم لڑکے کو گھوڑا پکڑنے کے لئے کیسے کہہ دیں کیونکہ وہ تو یہاں صرف پڑھنے ہی آتے ہیں گھوڑے تھامنے کے لئے تو نہیں آتے۔پھر اگر کسی لڑکے کو گھوڑا تھا منے کے لئے کہہ دیا جائے تو آپ یہ بھی کہیں گے کہ اس کو کہیں باندھ بھی دو۔اور گھاس بھی ڈالا جائے۔تو پھر جب آپ مدرسوں کے کھانے کو رشوت سمجھتے ہیں تو ہم آپ کے گھوڑے کو گھاس کیسے دیں؟ اس کا گھوڑا بڑا شور کرتا تھا۔اتنی دیر میں اس کے ملازم بھی آگئے انہوں نے گھوڑے کو باندھا اور جلدی ہی روٹی وغیرہ تیار کرلی۔اس نے کہا کہ میں امتحان لوں گا۔میں لڑکوں کو امتحان دینے کے لئے تیار کر کے علیحدہ جا بیٹھا۔وہ خود ہی امتحان لیتارہا بعد میں مجھے کہنے لگا کہ میں نے سنا ہے آپ بڑے لائق ہیں۔اور بڑی لیاقت سے آپ نے نارمل وغیرہ پاس کر کے بہت عمدہ اسناد حاصل کی ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ شاید اسی باعث سے آپ کو اس قدر ناز ہے میں نے یہ بات سن کر اس کو کہا کہ جناب ہم اس ایک بالشت کے کاغذ کو خدا نہیں سمجھتے اور ایک شخص کو کہا کہ بھائی اس بت کو ذرا نکال کر تو لاؤ۔پھر اس کے سامنے ہی اسے منگا کر پھاڑ ڈالا اور دکھلا دیا کہ ہم کسی چیز کو خدا کا شریک نہیں سمجھتے (اس شخص کو میری اس طرح پر اپنی اسناد کو پھاڑ ڈالنے سے رنج بھی ہو ا جس کا اس نے نہایت تاسف سے اظہار کیا۔اور کہنے لگا آپ کے اس نقصان کا باعث میں ہوا ہوں۔نہ میں یہ بات کہتا اور نہ آپ کا نقصان ہو تا) لیکن حقیقت میں جب سے میں نے اس ڈپلوما کو پھاڑ ا تب ہی سے میرے پاس اس قدر روپیہ آتا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔میں نے لاکھوں روپیہ کمایا ہے"۔ملازمت کو خیر باد کہنے کے بعد آپ کے والد ماجد نے آپ کو تعلیم عربی کی تکمیل کے لئے تاکید فرمائی اور آپ نے مولوی احمد الدین صاحب بگوی سے پڑھنا شروع کیا مگر ان کو جامع مسجد بنانے کی ایسی