تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 557
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 549 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیب احمدی ارائیوں کی مسجد کے حجرہ کی فروختگی کا آپ کو علم ہوا۔تو آپ نے فرمایا یہ بے حرمتی ہے اگر مقدمہ کرنے کی ضرورت ہو تو مقدمہ کرو۔سلسلہ کے نظام کا آپ کو بے حد احترام تھا۔زمانہ خلافت سے قبل جبکہ آپ صد را مجمن احمدیہ کے امین تھے۔اور خزانہ کی الماری آپ کی اس کو ٹھڑی میں رہتی تھی جو مطب کے ساتھ تھی۔الماری سے سو روپیہ کم ہو گیا۔انجمن نے فیصلہ کیا۔کہ چونکہ انجمن کے فیصلہ کے مطابق روپیہ نکالنے یا رکھنے کے وقت خود نہیں جاتے رہے اس لئے نقصان کے ذمہ دار مولوی صاحب ہیں۔چنانچہ آپ نے یہ سو روپیہ ادا فرما دیا۔اور حرف شکایت تک زبان پر نہ لائے۔بزرگان دین سے آپ کو بے حد الفت تھی۔مجد دین اور اولیائے دین کا نام بڑے ادب سے لیتے تھے۔خصوصاً حضرت امام ابو حنیفہ - حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے تو آپ کو خاص تعلق تھا۔حضرت شاہ صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں۔غفر الله بفضله و منه و کرمه امین فانه كان نعمه لاهل الهند وانا احبه لله و في الله و بالله - آپ ہمیشہ اس خیال سے ذہنی تکلیف محسوس کرتے کہ حسین علیہ السلام کو شہید کرنے والا مشخص عشرہ مبشرہ میں سے ایک صحابی کا لڑکا تھا۔H زہد و تقویٰ کا یہ حال تھا کہ کوئی فعل کوئی قول کوئی حرکت کوئی سکون ایسا نہ تھا۔جو نبی کریم کی سنت مبارکہ کے خلاف ہو۔آنحضرت ﷺ کی محبت میں ایسے گداز تھے کہ حد بیان سے باہر ہے۔ایک دفعہ فرمایا۔” جب میں اپنے نبی پر نازل ہونے والے قرآن مجید میں عطا غیر مجذوز پڑھتا ہوں تو جی چاہتا ہے کہ اس پیارے نبی کے قدم چوم چوم کے اس کے قربان ہو جاؤں۔جس نے میری فطرت کا تقاضا پورا کر دیا۔منشی عبد الحق صاحب کا تب (مکرم ابو المنیر مولوی نور الحق صاحب فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ کے والد ماجد) نے بتایا کہ میں کچھ عرصہ کے لئے قادیان سے باہر کتابت کے کام کے سلسلہ میں فیروز پور چلا گیا۔اور ایک عیسائی پادری کے اصرار پر اس کی بعض کتابیں بھی لکھیں۔میں جب قادیان آیا تو حضرت خلیفتہ المسیح نے دریافت فرمایا کہ کہاں ہوتے ہو ؟ میں نے سب حال عرض کیا۔حضرت خلیفہ اول غیرت رسول کے جذبہ سے موجزن ہو کر فرمانے لگے۔کہ پھر تو رسول اللہ ﷺ کو خوب گالیاں دیتے ہوں گے۔یہ بات سن کر منشی عبد الحق صاحب تڑپ گئے۔اور پھر فیروز پور جانے کا نام تک نہ لیا۔حدیثوں کا بہت سا حصہ یاد تھا۔فرمایا کرتے تھے۔" میں نے بہت روپیہ محنت وقت خرچ کر کے احادیث کو پڑھا ہے۔اور اس قدر پڑھا ہے۔کہ اگر بیان کروں تو تم کو حیرت ہو۔ابھی میرے