تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 556
تاریخ احمد بیت - جلد ۲۳ 548 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ اعلان فرمایا۔اور فرمایا کہ چھوہارے تقسیم کرنے کے لئے کوئی باہمت نوجوان ہے۔اس پر مولوی چراغ الدین صاحب ( مربی سلسلہ احمدیہ پشاور) کے والد معین الدین صاحب آف مردان کھڑے ہوئے۔حضور نے دیکھتے ہی فرمایا۔" ہمت مرداں مدد خدا"۔آپ ایک مخصوص انداز تحریر کے بانی تھے۔تالیف و تصنیف کی زبردست قوت رکھتے تھے۔اور آپ نے کئی معرکتہ الاراء کتابیں تالیف کیں۔جن میں سے بعض آپ کا عظیم شاہکار ہیں۔تحریر میں اختصار اور جامعیت کے ساتھ ساتھ سادگی اور وقار کا قدرتی رنگ بہت ٹپکتا تھا۔آپ نے اسلام کے بدگو دشمنوں کے خلاف بھی قلم اٹھایا ہے۔مگر متانت اور سنجیدگی کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔آپ نے مخالف کا نام تک اپنی جوابی تحریروں میں نہیں لیا۔اور جب تک بتایا نہ جائے یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ کتاب کس معاند کے جواب میں لکھی گئی ہے۔بہر حال آپ بہت نرم مزاج تھے اور مخالفوں کے خلاف تحریروں میں آپ کبھی سخت کلمہ استعمال نہیں کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول جن دنوں عبد الغفور مرتد کے رسالہ " ترک اسلام کا جواب دے رہے تھے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کیا کہ اس مرتد نے کتنی مخش کلامی کی ہے مگر آپ نے کوئی سخت لفظ اس کے جواب میں نہیں لکھا۔فرمایا۔جو شخص دور چلا جائے۔اس کو اور زیادہ دور کرنا بہادری نہیں نزدیک لانا بہادری ہے۔کبھی مباحثات کی آپ نے خواہش نہیں کی اور نہ کسی مباحثہ کی خود طرح ڈالی ہے بایں ہمہ علم مناظرہ میں آپ ایک خاص طرز کے موجد تھے۔اور فریق مخالف کو دو ایک باتوں میں ہی ساکت کر دینے کا خدا نے آپ کو غیر معمولی ملکہ عطا کر رکھا تھا۔پردہ پوشی اور اغماض آپ کی خاص عادات میں سے تھے۔ایک دفعہ دس اشخاص بیعت کے لئے حاضر ہوئے آپ کو کشف بتایا گیا کہ ان میں سے ایک قتل نفس کے جرم کا ارتکاب کر چکا ہے۔اس پر آپ نے بھی سے بیعت تو بہ لی اس طرح سب کی اجتماعی بیعت تو بہ سے اس ایک شخص کی بھی پردہ پوشی ہو گئی۔حسن ظنی کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ایک زمیندار نے چند گنے پیش کئے۔دوسرے زمیندار نے کہا کہ یہ چوری کے ہیں۔حضرت خلیفہ اول نے ارشاد فرمایا۔میں نے چوری کرتے نہیں دیکھا نہ میں اسے چور سمجھتا ہوں۔یہ بدظنی ہے اس کی قیمت اگر چاہو تو مجھ سے لے لو۔حضرت خلیفہ اول شعار اسلامی کی خود بھی سختی سے پابندی فرماتے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین فرماتے۔اسلامی واعطین کے لئے آپ ہمیشہ داڑھی کا پر زور حکم دیتے تھے۔قادیان کے (غیر