تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 558 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 558

تاریخ احمد بیت۔جلد ۳ HA 550 حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ سامنے کوئی کلمہ حدیث کا ایک قرآن کا اور ایک کسی اور شخص کا پیش کرو۔میں بتادوں گا کہ یہ قرآن کا ہے یہ حدیث کا ہے اور یہ کسی معمولی انسان کا درود شریف کا خود بھی بڑی کثرت سے ورد کرتے اور دوسروں کو بھی اس کی ہدایت فرماتے۔آنحضرت کے لئے آپ کو بے حد غیرت تھی مولوی ریاض احمد بریلوی کے نام ایک خط میں لکھا۔" حضرت شاہ ولی اللہ مجد دوالا حکیم الامت نے بھی زینب کے قصہ میں لغزش کھائی ہے۔اور حجتہ اللہ البالغہ میں ایک لفظ لکھ دیا ہے۔جس سے ایک مومن رنج اٹھاتا ہے۔ایک شخص نے " قاضی مبارک " پڑھنے کی درخواست کی۔فرمایا۔پہلے ایک صفحہ مشکوۃ شریف کا پڑھ لیا کرو۔مگر وہ آمادہ نہ ہوا۔اس لئے آپ نے بھی پڑھانے سے انکار کر دیا۔ایک دفعہ آپ نے علی گڑھ کالج کے بعض طلبہ کو ایک خط میں لکھا۔"کیمرج آکسفورڈ کی ہوا چل رہی ہے۔ہم لوگ وادی غیر ذی زرع کی ہوا کے گرویدہ ہیں"۔m فرماتے تھے۔حضرت محمد ا لڑائیوں میں اپنی بیوی عائشہ صدیقہ اور اپنی بیٹی فاطمہ کو بھی لے جاتے تھے۔کسی تاریخ میں نہیں لکھا کہ یہ دونوں پکڑی گئی ہوں۔میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی شکست نہیں کھائی میں ایسی کہانیوں کو جھوٹ سمجھتا ہوں کہ نبی کریم نے شکست بھی کھائی"۔ایک شخص نے آپ سے کہا۔کہ تم نبی کریم کی مدح کیوں کرتے ہو؟ آپ نے جواب دیا کہ زمین گول ہے نماز کا وقت زمین پر ہر جگہ ہوتا ہے۔ہر وقت سینکڑوں ہزاروں لوگ نماز میں پڑھتے ہیں پھر ہر نماز میں درود پڑھی جاتی ہے اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو تا۔تم بتاؤ کوئی رسول بھی ایسا ہے جس کے لئے اس قدر دعائیں مانگی جاتی ہوں اور مانگی گئی ہوں۔درود شریف کی تاثیرات و برکات 10 کو آپ بڑے شرح وسط سے بیان فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ فرمایا۔"خدا تعالٰی نے مجھے رسول اللہ سے ایسی محبت بخشی ہے۔کہ میرے کسی گوشہ میں آپ کی تعلیم۔آپ کی اولاد۔آپ کی آل سے ذرا بغض نہیں رہا۔میں نے اتنی تاریخیں پڑھی ہیں۔خارجی۔شیعہ رافضی کی مگر پھر بھی کسی صحابی سے مجھے رنج نہیں۔نہ رسول اللہ ﷺ کی بیوی سے نہ کسی آل و اولاد سے رنج ہے۔اور خدا کا فضل ہے "۔خدا تعالی کی توحید اور اس کے لئے غیرت آپ کے دین و عقیدہ کا جزر اعظم تھی۔جو آپ کے رگ و ریشہ میں سرائیت کر چکی تھی۔آپ کوئی ایسی بات جس سے خدا تعالی کی وحدانیت پر حرف آئے یا اس کی شان کو داغدار کیا جائے۔آپ کے لئے نا قابل برداشت ہو جاتی تھی۔طالب علمی کے زمانہ میں ایک دفعہ آپ کے ایک استاد کے یہاں پیران پیر کی گیارھویں شریف" کی جلیبیاں آئیں۔استاد نے کہا کہ ان کا کھا لینا جائز ہے۔مگر آپ نے یہ کہتے ہوئے کھانے سے صاف انکار کر دیا کہ ما اهل