تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 554 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 554

ریخ احمدیت۔جلد ۳ 546 آپ نے زندگی بھر اس کی طرف اشارہ تک نہیں فرمایا۔A-> حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ بچوں کو ہمیشہ نصائح فرماتے اور ان کی تربیت کی طرف خاص توجہ رکھتے تھے۔آپ کا معمول تھا A کہ بچوں کو بعض نصیحت آموز فقرے یاد کرا دیا کرتے تھے کہ ہم یہ کریں گے یہ نہیں کریں گے۔مفتی عبدالرؤف صاحب بھیروی اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ناشتہ کے وقت انڈہ میں سے زردی خود کھاتے اور سفیدی مجھے دے دیتے تھے۔حضرت مفتی صاحب بچپن میں دوا لینے کے لئے آپ کے مطب میں گئے اور دوا کے لئے بایاں ہاتھ آگے بڑھایا۔مگر آپ نے فرمایا۔دائیں ہاتھ سے لو۔ایک دفعہ آپ کے صاحبزادہ عبدالحی کو کسی چھابڑی والے نے اس کی چند چیزیں خراب کر دینے پر جھڑ کا۔حضرت خلیفہ اول نے اسے کئی گنا قیمت ادا فرمائی اور فرمایا کہ بچوں کو جھڑکنا نہیں چاہئے۔اس سے ان کے ابھرنے والے جذبات وسب جاتے ہیں۔آپ نے ہدایت دے رکھی تھی کہ بچوں کو سکول میں پیٹا نہ جائے۔AA ایک دفعہ میاں عبدالحی صاحب مرحوم نے آپ کا موتیوں کا سرمہ کھیلتے ہوئے گرادیا۔کسی نے کہا کتنا قیمتی سرمہ تھا۔حضور نے فرمایا۔” عبد الحی کی قیمت اس سے بھی زیادہ ہے "۔حضور کے بعض صاحبزادے درس سے پہلے مسجد میں آجاتے اور جب آپ تشریف لاتے۔تو یہ پیچھے سے آکر کندھوں پر چڑھ کر پاؤں طرف آگے لٹکا لیتے۔حضور ان کو خوش کرنے کے لئے ہاتھوں کے بل اور زیادہ جھک جاتے۔چودھری غلام محمد صاحب بی۔اے نے رپورٹ دی کہ عزیز عبدالحی (ان دنوں بورڈنگ میں داخل تھے ) با قاعدہ نمازیں پڑھ رہے ہیں۔اس پر آپ نے اپنی جیب سے ان کو ایک روپیہ عطا کر کے فرمایا۔کہ رسول کریم نے فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص خوشخبری دے تو اسے کچھ دینا چاہئے۔شیخ عبد الکریم صاحب مغلپورہ کا بیان ہے کہ بٹالہ کے ایک مسلمان نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے دو بچوں کو پادری مرتد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں (مشن والے ان بچوں کا خرچ بھی دے رہے تھے) آپ دعا کریں۔کہ یا تو یہ بچے مر جائیں یا اسلام میں رہیں۔حضرت خلیفہ اول نے یہ بچے اپنی نگرانی میں لے لئے اور ان بچوں کے اخراجات دیتے رہے ان بچوں میں سے ایک کا نام شیخ عبد الرحیم ہے یہ واقعہ خلافت اوٹی سے پہلے کا ہے۔جانوروں سے حسن سلوک کا آپ کو ہمیشہ خیال رہتا تھا۔آپ کے سامنے کوئی بھینس لے کر آیا۔اس نے گوبر کر دی۔لوگوں نے برا مانا اور تھوکنے لگے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ تمہارے پاخانہ A4