تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 555 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 555

تاریخ احمد بیت جلد ۳ 547 حضرت خلیفہ المسح الاول" کی سیرت طیبہ سے تو زیادہ بد بودار نہیں۔کسی ادنی لغویت کو بھی گوارا نہ کرتے تھے۔فروع سے الجھنا آپ لغو سمجھتے تھے اور فضول اور نکمی بحثیں آپ کو سخت نا پسند تھیں۔آپ کو بے فائدہ سوالات سے سخت نفرت تھی۔کسی نے سوال کیا کہ کوئی خلیفہ ۴۰ سال کی عمر سے کم ہوا ہے۔آپ نے فرمایا۔میں خلیفوں کا مورخ۔۔۔نہیں۔و من حسن اسلام المرء تر که ما لا یعنیه خاکسار کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ آدم اور داؤد علیہما السلام کی کیا عمر تھی نیز ثم جعلنكم خلف فی الارض میں سب بالغ بلکہ غیر بالغ موجود ہیں "۔آپ کو حقہ سے سخت نفرت تھی۔ایک شخص حقہ پی کر آپ کے ساتھ نماز میں کھڑا ہو گیا آپ کو متلی ہونے لگی۔نماز کے بعد آپ نے اسے فرمایا۔کہ مہربانی فرما کر آپ ایسی حالت میں گھر ہی نماز پڑھ لیا کریں۔آپ کی پوری زندگی نہایت درجہ مصروفیت اور غیر معمولی محنت میں گزری۔کسی نے کہا فرمت ہے۔فرمایا ہم تو موت کے ساتھ فرصت چاہتے ہیں۔سید امجد علی صاحب سیالکوٹی کا بیان ہے۔کہ ایک دفعہ میں حضرت خلیفہ اول سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔صاحبزادہ عبدالحی صاحب نے بچپن کی سادگی میں مجھ سے پوچھا کہ کیا کرتے ہیں میں نے کہا کوئی کام نہیں۔حضرت خلیفہ اول سے انہوں نے ذکر کیا کہ ابا جان وہ کہتے ہیں۔کہ میں کوئی کام نہیں کرتا۔آپ نے فرمایا۔مومن بیکار نہیں رہتا یا نہیں ہوتا) حضرت خلیفہ اول کے وعظ و تلقین کا رنگ نہایت درجہ دلربا۔موثر اور دل نشین ہوتا۔آپ کا ہمیشہ طریق یہ تھا کہ جس کا قصور ہو تا اسے ہرگز مخاطب نہ فرماتے۔آپ کی ہر بات میں ایک درد اور جذب ہو تا تھا۔آپ کی مجلس کا رنگ ایسا نرالا تھا کہ انسان کی روح تازہ ہو جاتی اور دنیا سے بے رغبتی کے ساتھ ساتھ سوزد گر از غم اور درد پیدا ہو جاتا۔اور کثافتیں دھل جاتی تھیں۔آپ کو افسوس تھا کہ واعظ صرف نہانے اور رلانے کا خیال تو سامنے رکھتے ہیں۔مگر خشیت اللہ ان کے مد نظر نہیں ہوتی۔آپ محض قوت مستحیلہ کو بڑھانے کو بہت خطرناک چیز سمجھتے تھے۔آپ کو زبردست قوت قدی حاصل تھی آپ کے وعظ سے کئی لوگوں نے بیعت کی۔آپ سلسلہ کے کارکنوں سے توقع رکھتے تھے کہ وہ صرف ڈیوٹی کے اوقات میں ہی کام میں مصروف نہ رہیں۔بلکہ کچھ نہ کچھ وقت رضا کارانہ کام بھی ضرور کریں۔آپ کے کلام میں ایک جدت ہوتی تھی۔ایک جلسہ سالانہ پر حضرت خلیفہ اول نے ایک نکاح کا ۹۸۰