تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 543 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 543

حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 535 ہوئی لیکن اگر آپ کے دل میں کوئی شبہ اور وسوسہ ہو تو دوبارہ نکاح کر لیجئے۔چنانچہ ڈاکٹر اقبال نے اس فتویٰ کے مطابق دوبارہ اس خاتون سے نکاح پڑھوا لیا۔50 - مولانا محمد علی جو ہر۔نواب وقار الملک۔مولانا ابوالکلام آزاد۔مولوی ظفر علی خان۔علامہ شیلی نعمانی۔نواب محسن الملک۔مولوی عبدالحق صاحب حقانی مفسر دہلوی۔خواجہ حسن نظامی اور دوسرے مسلمہ مسلمان لیڈر آپ کی عظمت شان اور جلالت مرتبت اور تبحر علمی کے دل سے قائل تھے اور اسلامی رسائل میں آپ کی دینی رائے کو بڑی وقعت دی جاتی تھی۔ڈاکٹر عبد الحمید صاحب چغتائی لاہور کی چشم دید شہادت ہے کہ حضرت ایک مرتبہ چیف کورٹ پنجاب میں کسی گواہی کے سلسلہ میں تشریف لائے جب حضور کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو تین حج تعظیم کے لئے کھڑے ہو گئے۔آپ کے علمی فیض کا حلقہ بہت وسیع تھا اور آپ کے شاگردوں کی تعداد جنہوں نے آپ سے علوم پڑھے بے شمار ہے۔علوم دینیہ کے علاوہ آپ کا شمار چوٹی کے طبیبوں میں ہو تا تھا اور پورے ملک میں آپ کی دھوم مچی ہوئی تھی۔یہ بھی ایک روایت ہے کہ کوئی شخص انگلستان میں بغرض علاج گیا۔تو ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ ہندوستان میں جاکر مولوی حکیم نور الدین صاحب سے علاج کرائیں۔ڈاکٹر عبد الحمید صاحب چغتائی (لاہور) کی روایت ہے کہ "آپ کبھی لاہور تشریف لاتے تو آپ کے گرد ہندو مسلمان اور سکھ دور و نزدیک سے ہجوم کر کے آجاتے بازار میں چلتے تو لوگ حضرت کے پاؤں پکڑ لیتے۔اور اپنے مریضوں کے لئے دو اطلب کرتے۔حضرت حکیم صاحب قبلہ نے ہزاروں روپیہ کی دوائیں اپنی جیب سے خرچ کر کے ضرورت مندوں میں مفت تقسیم کر دیں۔حضرت کے دل میں خدمت خلق کا بے پناہ جذبہ تھا۔نیز لکھتے ہیں۔" حضرت حکیم صاحب ۱۹۱۳ء میں بیمار ہوئے تو جناب مسیح الملک حکیم حافظ اجمل خان صاحب دہلوی۔حکیم عبد العزیز خان صاحب لکھنوی۔حکیم حسنین صاحب کستوری خود عیادت کے لئے قادیان تشریف لائے۔حکیم فقیر محمد صاحب حسین چشتی۔حکیم مولوی سلیم اللہ خان صاحب۔حکیم سید عالم شاہ صاحب۔حکیم مفتی محمد انور صاحب ہاشمی۔حکیم فیروز الدین صاحب وغیرہ وغیرہ حضور کا نام بڑی عزت و احترام سے لیا کرتے تھے۔اور حضرت کو حضرت استاذی المکرم کہا کرتے تھے۔عبدالمجید صاحب سالک اپنی کتاب "مسلم ثقافت ہندوستان میں " کے صفحہ ۳۰۰ - ۳۰۱ پر لکھتے ہیں۔" آپ کی حذاقت کا شہرہ نزدیک و دور پھیل گیا۔اور آپ ہندوستان کے چند منتخب اطباء میں شمار ہونے لگے۔آپ بھیرہ چھوڑ کر قادیان چلے گئے اور بقیہ عمر غلام