تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 544 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 544

تاریخ احمدیت جلد ۳ 536 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ درس و تدریس علاج معالجہ اور پرورش غرباء میں بسر کر دی۔آپ آل انڈیا ویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اعزازی ممبر اور رکن خصوصی بھی تھے۔حضرت خلیفہ اول کے طبی تلامذہ کی تعداد بہت ہے۔mom - حضرت خلیفہ اول کے روحانی اور اخلاقی کمالات، تأثیرات قدسیہ اور احسانات و عنایات کی تفصیل کے لئے تو ایک دفتر درکار ہے مختصر طور پر اتنا بتانا ضروری ہے کہ آپ کے وجود میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کامل کل کی حیثیت سے جملہ اخلاق حسنہ اور مردانہ صفات اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر تھے۔آپ در از قامت تھے خدو خال موٹے ہونٹ اور ناک نہایت نمایاں مہندی رنگی ہوئی ڈاڑھی r۔سانوله رنگ مگر صورت نہایت دلکش اور پر رعب تھی۔۔۔قد آدم عصا ہاتھ میں ہو تا تھا۔جسمانی قوت کا یہ حال تھا کہ زمانہ طالب علمی میں کئی کئی وقت تک کھانے کا ناغہ کرتے مگر کوئی ضعف و نقاہت قطعاً محسوس نہ کرتے تھے۔اسی زمانہ میں بڑے بڑے لمبے سفر کئے۔ایک دفعہ آگرہ سے چل کر بھوپال پہنچے اور معلوم بھی نہ ہوا۔گو بڑھاپے میں آپ کے قومی مضمحل ہو گئے اور مسلسل بیماریوں نے نڈھال کر دیا تھا مگر پھر بھی اکثر پورا پورا دن بے تکان علمی کام کرتے جاتے تھے۔آپ زبر دست تیراک اور شہسوار تھے حضرت نے کبھی بینک نہیں لگائی۔باوجود پیرانہ سالی کے سیدھے چلتے اور سیدھے کھڑے ہوتے تھے۔آپ گھوڑے سے گرنے کے حادثہ سے پہلے کئی دفعہ چیلنج کیا کرتے تھے کہ کوئی میرا ہاتھ ٹیڑھا کر کے دکھا دے۔آپ کا جسم بھاری تھا آہستہ آہستہ چلتے تھے کوئی رستہ میں مل گیا تو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسجد اقصیٰ کی طرف جاتے کوئی نہ ملتاتو از خود تشریف لے جاتے۔آپ کے خلاف کشمیر اور بھیرہ میں بڑی بڑی سازشیں ہو ئیں مگر آپ نے شجاعت اور بہادری کے بے نظیر نمونے دکھائے کئی لوگوں نے آپ سے ٹکر لی اور وہ پاش پاش ہو گئے۔بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ قادیان میں آپ کے قتل کی سازش کی گئی مگر آپ پر ذرہ برابر بھی خوف و ملال کے آثار نہیں تھے اور برابر اپنے کام میں مصروف رہے۔اردو عربی، فارسی کے علاوہ ایک حد تک پشتو بھی جانتے تھے۔آپ کی مادری زبان پنجابی تھی مگر زمانہ طالب علمی میں زیادہ تر ہندوستان میں رہنے کی وجہ سے پنجابی نہیں بول سکتے تھے۔اور عام بول چال اردو میں فرماتے تھے۔مشکل سے مشکل گھڑیوں میں بھی آپ ایسے بشاش رہے جیسے عام معمولات میں اور ہمیشہ فرماتے مومن پر خوف و حزن نہیں آسکتا۔ہمیشہ خوش رہتے بیماری کے ایام میں بھی چڑ چڑا پن نہیں آتا تھا۔۲۳