تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 542
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 534 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ آٹھواں باب (فصل اول) امیر المومنین سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی سیرت طیبہ امیرالمومنین سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الاول مسلمہ طور پر اپنے علم و عرفان اور تقویٰ کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد سب سے بلند اور سب سے ممتاز مقام رکھتے تھے۔علم و معرفت کے بحر بیکراں اور ولایت و کرامت کی چلتی پھرتی تصویر ، آپ کو دیکھ کر بزرگان سلف کے کارناموں کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔وہ لوگ بھی جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا د عوامل ماموریت تسلیم کرنے میں عمر بھر تامل رہا۔آپ کو نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔آپ کی بزرگی اور علمیت و قابلیت کے دل سے قائل تھے ایک مرتبہ ایک نے سرسید مرحوم سے خط و کتابت کے دوران پوچھا کہ جاہل علم پڑھ کر عالم بنتا ہے اور عالم ترقی کر کے حکیم ہو جاتا ہے حکیم ترقی کرتے کرتے صوفی بن جاتا ہے مگر جب صوفی ترقی کرتا ہے تو کیا بنتا ہے ؟ سرسید مرحوم نے جواب دیا کہ جب صوفی ترقی کرتا ہے تو نور الدین بنتا ہے۔- مولانا عبید اللہ صاحب سندھی جو ولی اللہی فلسفہ کے داعی تھے محض حضرت خلیفہ اول سے ملاقات و استفادہ کے لئے قادیان تشریف لائے تھے۔7 اور حضور کے اسلوب تفسیر سے بہت متاثر ہوئے چنانچہ ان کی تفسیر میں اس کی گہری جھلک نظر آئی ہے اور احمدیت کے خیالات و افکار کا عکس بھی ان کی تفسیر سے دکھائی دیتا ہے۔ڈاکٹر محمد اقبال صاحب سے قانون شریعت کے مختلف مسائل سے راہ نمائی کے سلسلہ میں خط و کتابت جاری رہتی تھی۔ایک مرتبہ ان کو اپنی ایک بیوی کے بارے میں شبہ ہوا کہ چونکہ وہ اسے طلاق دینے کا ارادہ کر چکے تھے۔مبادا شرعا طلاق ہو چکی ہو۔جس پر انہوں نے مرزا جلال الدین صاحب کو حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بھیجا کہ مسئلہ پوچھ آؤ۔آپ نے فرمایا کہ شرعا طلاق نہیں