تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 35
31 فلیتہ المسیح انا دل کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ) کہ مبادی الحساب کے چاروں حصے پڑھانے میں آپ شیخ صاحب کے بھی استاد ہو گئے۔علم اقلیدس منشی نهال چند ساکن شاہ پور سے سیکھا اور پہلے مقالہ کی چند شکلیں پڑھیں اس کے بعد محض خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ نارمل کے سارے تعلیمی حصہ پر حاوی ہو گئے۔اور آپ نے تحصیل کا امتحان اس درجہ نمایاں کامیابی سے پاس کر لیا کہ آپ پنڈ دادنخان کے انگریزی مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر بنا دیئے گئے۔راولپنڈی میں آپ کی رہائش گاہ کے ساتھ ایک انگریز پادری الیگزینڈر کی کو تھی تھی ایک دفعہ کوئی شخص آپ کو وہاں لے گیا۔اس نے رسوائے عالم پادری فنڈر کی مشہور کتابیں " میزان الحق اور "طريق الحياة " جو بڑی دیدہ زیب چھپی ہوئی تھیں آپ کو پڑھنے کے لئے دیں ان کتابوں سے آپ کو پہلی دفعہ عیسائیت کے عقائد کا علم ہوا۔آپ کی عمر بھی چھوٹی ہی تھی لیکن چونکہ قرآن کریم سے اس زمانہ میں بھی آپ کو محبت تھی۔اس لئے آپ کو یہ دونوں کتابیں بہت لچر معلوم ہو ئیں۔حالانکہ اس زمانہ میں عیسائی لوگوں کو ان پر بہت ناز تھا اور خصوصاً " میزان الحق " تو وہ کتاب تھی جس سے کئی مسلمان مرتد ہو چکے تھے۔راولپنڈی میں مولانا محمد فضل صاحب پشتی سے ملاقات ہوئی جو اپنے زمانہ کے ایک عظیم الشان مصنف اور بزرگ تھے۔تحصیل جہلم میں دریائے جہلم کے تھوڑے سے فاصلہ پر پنڈ دادنخاں کا پنڈ دادنخان میں قیام قصبہ آباد ہے اس قصبہ میں 9 فروری ۱۸۵۵ء کو در نیکر مڈل سکول جاری ہوا۔جس میں فارسی اور انگریزی بھی پڑھائی جاتی تھی اور اس کی موجودہ عمارت کی بنیاد جیسا کہ اس کے بیرونی دروازہ کی گول ڈاٹ پر کندہ حروف سے پتہ چلتا ہے ۱۸۶۹ء میں رکھی گئی تھی نومبر ۱۹۰۴ء میں یہ سکول ہائی سکول بنا دیا گیا۔جو اب تک قائم ہے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح اول اس سکول میں چار سال تک ہیڈ ماسٹر ر ہے۔سکول کے فارسی مدرس آپ کی مخالفت میں اپنے شاگردوں کو امتحانا سوال کرنے کے لئے بھیج دیتے مگر اپنی خداداد قابلیت سے آپ ان کا مکمل جواب دیتے۔اس طرح آپ کی علمی لیاقت کا سکہ بیٹھ گیا۔ہیڈ ماسٹری کے زمانہ میں ہی آپ کے بھائی نے عربی تعلیم پھر سے شروع کرا دی اور نحو کی کتاب الفیہ منطق کے رسائل اور علم کلام کی کتاب شرح عقائد نسفی آپ نے ختم کرلیں۔ملازمت سے استعفی پنڈ دادنخاں سکول کی ہیڈ ماسٹری سے آپ نے از خود استعفیٰ دیا۔یہ آپ کی شان استغناء اور توکل علی اللہ کا ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔جس کی