تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 521 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 521

تاریخ احمدیت جلد ۳ 513 شروع کیا لیکن میں نے دو قدم ہی اٹھائے تھے کہ مجھے خیال آیا کہ حضرت خلیفہ اول تو وفات پاچکے ہیں بھاگنے سے کیا فائدہ۔جماعت کے حالات بہت منتشر حالت میں ہو گئے ہیں۔میں تیسرے ہی قدم پر کھڑا ہو گیا۔اور بڑے الحاج کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ الہی خلیفہ اول تو فوت ہو گئے ہیں اب جماعت کو فتنوں سے محفوظ رکھنا۔میں کافی عرصہ تک ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگتا رہا۔اور پھر آہستہ آہستہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی گلی میں سے ہو کر نواب صاحب کے مکان کی طرف چل پڑا۔نواب عبدالرحیم خاں صاحب خالد کا بیان ہے کہ میں اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب جمعہ کی نماز پڑھ کر کوٹھی چلے آرہے تھے کہ ریتی چھلہ سے ذرا دور حضرت مولوی شیر علی صاحب کی کو ٹھی کے قریب مقابل سے کسی آنے والے نے اطلاع دی کہ حضرت خلیفہ اول کا انتقال ہو گیا ہے میاں بشیر احمد صاحب اس وقت اس قدر پریشان ہوئے کہ انہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔میں بھی ساتھ بھاگ چلا اسی پریشانی میں ہم کو بھی پہنچے۔پھر کیا تھا لوگ آنے شروع ہوئے اور ہماری کو ٹھی کا ہر حصہ اور ہر میدان مردوں اور عورتوں سے بھر گیا۔یہ تو قادیان میں اطلاع پہنچنے کی صورت تھی۔بیرونی جماعتوں کو اس حادثہ سے آگاہ کرنے کے لئے تار دئے گئے اور جونہی یہ اطلاع جماعتوں تک پہنچی احمدی دیوانہ وار قادیان کی طرف چل پڑے۔قادیان کا درد ناک نظاره قادیان اور جماعت پر حضرت خلیفہ اول کی وفات پر کیا بیتی؟ خلافت کو مٹا دینے کے کیا منصوبے ہوئے اور پھر کس طرح قدرت ثانیہ کا قیام ہوا؟ اس کی تفصیل قم الا نبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اپنے حقیقت افروز قلم سے یہ لکھتے ہیں۔کہ " قادیان کی نئی آبادی کا کھلا میدان گویا میدان حشر بن گیا بے شک حضرت خلیفہ اول کی جدائی کا غم بھی ہر مومن کے دل پر بہت بھاری تھا۔مگر اس دوسرے غم نے جو جماعت کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے ہر مخلص احمدی کے دل کو کھائے جارہا تھا۔اس صدمہ کو سخت ہولناک بنا دیا تھا جیسا کہ بتایا جاچکا ہے۔جمعہ کے دن سوا دو بجے کے قریب حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوئی اور دوسرے دن نماز عصر کے بعد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوئے گویا یہ قریباً چھبیس گھنٹے کا وقفہ تھا جو قادیان کی جماعت پر قیامت ما طرح گزرا۔اس نظارے کو دیکھنے والے بہت سے لوگ گزر گئے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس کے بعد پیدا ہوئے یادہ اس وقت اس قدر کم عمر تھے کہ ان کے دماغوں میں ان واقعات کا نقشہ محفوظ نہیں۔مگر جن لوگوں کے دلوں میں ان ایام کی یاد قائم ہے وہ اسے کبھی بھلا نہیں سکتے وہ دن جماعت کے لئے قیامت کا دن تھا۔اور میرے اس بیان میں قطعا مبالغہ نہیں۔ایک نبی کی جماعت تازہ بنی ہوئی جماعت