تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 510
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 502 خلافت اولی کے آخری ایام عادت سے زیادہ نماز پڑھیں۔II اب آپ کی طبیعت یہاں تک کمزور ہو گئی۔کہ سہارے کے بغیر بیٹھنا محال ہو گیا۔اور بولنے سے ضعف ہونے لگا۔اب بھی اپنے گھر میں درس کا سلسلہ جاری رکھا۔چنانچہ ۲/ فروری کو آپ نے ایسے درد انگیز لہجہ میں درس دیا کہ سب کے قلوب پر رقت طاری ہو گئی۔اور بعض چیچنیں مار کر رونے لگے۔وہ کلمات گویا ایک وصیت کا رنگ لئے ہوئے تھے۔Ba اسی روز آپ عصر و مغرب کے درمیان درس دینے کے لئے بعض لوگوں کے کندھوں پر سہارا رکھ کر پہنچے اور بیٹھے بیٹھے ہی درس دیا اور فرمایا۔” میں جب مروں گا۔تم میں سے بہت لوگ ہوں گے میری اس بات کو بطور وصیت یاد رکھنا کہ میری اولاد کے واسطے چندے ہر گز نہ کرنا۔اور ان کو مساکین کی مد میں نہ رکھنا۔بتامی کی مد میں نہ رکھنا۔میری اولاد کو بھی اللہ تعالٰی اسی طرح اپنی قدرت سے دے گا جس طرح اس نے مجھے ہمیشہ دیا ہے۔۔۔میرے ذمہ کچھ قرض تھا۔آج الحمد للہ اس کے دو حصے ادا ہو گئے ہیں۔ایک حصہ باقی ہے۔وہ انشاء اللہ کل ادا ہو جائے گا اور پھر میرے ذمہ کسی کا قرض نہیں"۔دوران درس میں آپ نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ میں درس کا یہ دور ختم کرلوں اور بڑی خواہش ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے ترجمہ انگریزی جو کیا ہے اس کے نوٹ سن لوں کچھ سن بھی چکا ہوں مگر میری و مبدم طاقت کم ہوتی جاتی ہے کہاں میں تم کو مسجد میں جاکر پھر مدرسہ میں جاکر قرآن سناتا تھا پھر میں اٹھ کر سناتا تھا۔مگر اب یہ بھی طاقت نہیں اب بیٹھنے پر مجبور ہوں۔۴ فروری کو ایک احمدی کا خط آیا کہ لوگ مساجد سے نکالتے ہیں۔فرمایا میدان میں نماز پڑھ لیا کریں۔استغفار اور صبر سے کام لیں۔۵ فروری کو طبیعت نسبتاً اچھی رہی۔۷ / فروری کو پیاس کی تکلیف رہی۔اس دن بہت سے احباب عیادت کے لئے حاضر ہوئے۔اس دن انگریزی ترجمہ کے ہیں پارے کے نوٹ ختم ہو گئے۔اس کے طباعت کے اخراجات کے لئے آپ نے خود تحریک کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔۹/ فروری کو طبیعت زیادہ نڈھال ہو گئی۔۸/ فروری کو آپ نے بتایا کہ خدا تعالٰی نے اس بیماری میں مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ پانچ لاکھ عیسائی افریقہ میں مسلمان ہوں گے۔پھر فرمایا۔مغربی افریقہ میں تعلیم یافتہ ہوں گے۔اس دن آپ کا مرض کچھ رک گیا۔مگر کمزوری بہت زیادہ ہو گئی۔مگر دوسرے دن افاقہ ہو گیا۔پہلے پر کچھ آرام ہو تا مگر پچھلے پر خفیف سی حرارت ہو جاتی۔ضعف کا یہ حال ہو گیا کہ سارے کے بغیر بیٹھنا تو درکنار باوجود سارے کے سر نہیں تھام سکتے تھے۔تاہم آپ نے حضرت میاں صاحب کے ذریعہ اخبار میں اعلان کرایا کہ دوست بیمار پرسی کے لئے یہاں آنے کی بجائے اپنے اپنے مقام پر