تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 509 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 509

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 501 خلافت اولی کے آخری ایام (۱۹۱۳ء) پر ابھی ابتدائی کلمات ہی کے تھے کہ آپ کی طبیعت خراب ہو گئی اور تقریر مکمل کئے بغیر واپس تشریف لانا پڑا۔بایں ہمہ قرآن مجید اور بخاری شریف کا درس آپ اس حالت میں بھی برابر دیتے رہے۔جو آپ کی روح کی غذا اور دل کی تسکین کا واحد ذریعہ تھا۔وسط جنوری ۱۹۱۴ء میں آپ بہت رات گئے پیشاب کے لئے کھڑے ہوئے تو سینے کے بل دھڑام سے گر پڑے اور کچھ دیر کے بعد زمین سے اٹھنے کے قابل ہوئے بایں ہمہ اپنے پیارے خدا کے پیارے کلام کو سنانے میں ناغہ نہیں ہونے دیا۔اور درس کے لئے تشریف لے آئے۔دراصل یہ آپ کی مرض الموت کا آغاز تھا۔قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب الله " سلسلہ احمدیہ " میں تحریر فرماتے ہیں۔ابتداء میں صرف پہلی کے درد کی تکلیف اور گاہے گاہے ہلکی حرارت اور قے وغیرہ کی شکایت تھی۔آہستہ آہستہ بیماری نے اس قدر زور پکڑ لیا کہ آپ بستر سے نہ اٹھ سکے "۔اب ہم مرض الموت کے واقعات کا بالتفصیل ذکر کرتے ہیں:۔۱۷ ۱۸ جنوری سے حضرت خلیفہ اول کی طبیعت زیادہ کمزور ہو گئی تو آپ نے شام کا درس گھر میں جاری کر دیا۔لیکن اب بھی آپ کی دینی مصروفیات میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔بلکہ فرمایا کہ اس کمزوری میں جب کہ بعض اوقات لیٹ کر کام کرنا پڑتا ہے۔میری یہ خواہش ہے کہ اگر کوئی نئی کتاب مل جائے تو اسے ختم کئے بغیر نہ چھوڑوں۔۲۵ دانت نکلوانے سے مسوڑے پر ورم ہو گیا اور چہرا دیا گیا۔اور آپ دو روز ۱۵-۱۶/ جنوری کو درس نہ دے سکے۔۱۷/ جنوری کو پیر منظور محمد صاحب کے صحن میں اور ۱۸/ جنوری کو پیر منظور محمد صاحب کے مکان میں درس قرآن و بخاری دیا۔مگر اس کے بعد طبیعت پھر زیادہ ناساز ہو گئی۔ضعف بھی بہت رہا۔اور تین چار روز عصر کا درس بھی بند کر دینا پڑا۔تاہم عورتوں میں درس قرآن و حدیث بدستور دیتے رہے۔دوبارہ ۲۵/ جنوری کو آپ نے مردوں میں بھی درس دینا شروع کیا۔آپ عصر کے بعد میاں عبدائی صاحب کے مکان میں درس دیتے تھے۔جنوری کے آخر اور فروری کے ابتداء میں آپ کی طبیعت اور زیادہ علیل ہو گئی۔اور ضعف کے علاوہ حرارت بھی ہونے لگی۔مگر باوجود سخت ضعف کے آپ کھڑے ہو کر اور بار از بلند درس دیتے رہے طبیبوں اور ڈاکٹروں کا مشورہ تھا کہ آپ کو آرام کرنا چاہئے۔مگر آپ نے فرمایا۔مجھے تو اس سے تقویت ہوتی ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب کا ایک خط پہنچا کہ کامیابی کے ساتھ کئی مشکلات اور ابتلاء بھی در پیش ہیں۔آپ نے تحریر فرمایا۔عادت سے زیادہ دعائیں کریں۔عادت سے زیادہ خیرات کریں اور