تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 30
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 26 فلیتہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( حمل از خلافت) ہو۔چنانچہ آپ کے سب بچوں کو قرآن شریف اور اسلامی لٹریچر سے خاص لگاؤ پیدا ہوا۔اس میں ان کی دلی آرزو اور حسن تربیت کا بھاری عمل دخل تھا۔حضرت مولوی نور الدین خلیفتہ المسیح اول فرماتے تھے کہ " میری ماں قرآن خوب جانتی تھی۔حمل کے اندر بھی قرآن ہی کی آواز مجھے پہنچی اللہ تعالی کی بہت بہت رحمتیں ہوں میری کھلائی پر کہ مجھے بہلانے کے وقت اور لوری دیتے ہوئے اس کے منہ میں اللہ کا نام اور نبی کا نام رہتا تھا ابتداء میں میرے مسلمان ہونے کا سبب یہی ہوا۔۔۔پھر میں نے اپنی ماں کی گود میں لا اله الا الله محمد رسول اللہ کی آواز سنی اور گود میں قرآن پڑھا۔میری والدہ ماجدہ ۸۵ برس کی عمر تک لوگوں کو قرآن شریف پڑھاتی رہیں آپ حضرت مولوی نور الدین صاحب سے بہت پیار کرتی تھیں۔بچپن میں ایک مکھن کا پیڑا سا بنا کر آپ کے سر مبارک پر رکھ دیتیں جو جذب ہو جاتا۔آپ عظیم الشان شخصیت کی مالکہ تھیں۔لوگ حسن عقیدت یا دنیوی آرام یا دینی اغراض پر اپنی اولاد کو ان کا دودھ پلانے کے خواہشمند تھے اسی لئے آپ کے بہت سے رضاعی بیٹے تھے جن میں حافظ غلام محی الدین بھی ہیں۔حضرت نور بخت کا مئی ۱۸۸۹ء میں بھیرہ میں انتقال ہوا۔آپ کے کفن دفن کا انتظام حضرت قاضی سید امیر حسین صاحب نے کیا اور آپ قبرستان پیر مصطفیٰ میں دفن ہو ئیں۔انتقال کے وقت حضرت مولوی نور الدین صاحب جموں میں مقیم تھے جب آپ کو اپنی والدہ کا تار ملا تو اس وقت آپ بخاری شریف پڑھا رہے تھے۔وہ بخاری اعلیٰ درجہ کی تھی۔آپ نے یہ خبر ملتے ہی کہا۔اے اللہ میرا باغ تو یہی ہے پھر آپ نے وہ بخاری وقف کر دی جو خان صاحب منشی فرزند علی صاحب آف فیروز پور کے پاس عرصہ تک رہی۔ایام طفولیت اور ابتدائی درسگاہ میں تعلیم حضرت خلیفہ المسیح اول مولانا نورالدین صاحب الله ابتداء ہی سے غضب کا حافظہ رکھتے تھے۔حتی کہ آپ کو اپنا دودھ چھوڑنا بھی یاد تھا چناچہ فرماتے ہیں۔" میری ماں نے پستان کے اوپر بال لگا لئے اور میں نے اپنے بھائی سے کہا تھا یہ ہوا ہے " اس غیر معمولی حافظہ کے ساتھ یہ مزید فضل الہی ہوا کہ آپ کی آنکھیں ایسے گھر میں کھلیں جہاں ہمیشہ قال الله اور قال الرسول ہی کا چرچا رہتا تھا۔اور والد سے لے کر بھاوج اور چھوٹے بھائی تک سب قرآن ہی کی محبت میں سرشار تھے۔ابتداء میں آپ نے اپنی والدہ ماجدہ کی گود میں قرآن مجید پڑھا اور انہیں سے پنجابی زبان میں فقہ کی کتابیں پڑھیں اور کچھ حصہ قرآن شریف کا اپنے والدت بھی پڑھا۔2 اس گھر یلو تعلیم کے بعد آپ مدرسہ میں داخل ہوئے اور میاں غلام حیدر صاحب بھٹا اور حاجی