تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 486 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 486

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 478 اخبار " الفضل" اور "پیغام صلح " کا اجراء چاہے آپ ناراض ہو ہی جائیں مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ خواجہ کمال الدین صاحب بازی لے گئے اور ممکن ہے کہ آپ جناب خلیفتہ المسیح کو دبا کر اب یہ کہلوالیں کہ انہوں نے ان کے لئے عمدہ الفاظ درس میں نہیں کے مگر اب میں ضرور کہوں گا۔چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت کمال دیں بودے۔اور آپ خدا کی اور فرشتوں کی زبان نہیں رد کر سکتے۔کیا آپ چاہتے ہیں کہ جس شخص کو خدا نے جانشینی احمد کے لئے چنا ہے اس کو دنیا والوں کی نگاہ سے گرا دیں۔یاد رکھئے۔کہ آپ ہرگز ہر گزایسا نہیں کر سکتے۔چراغ را که ایزد بر فروزد کے کو تف زند ریشش بسوزد آپ نے اور آپ کے لواحقین مثلاً اکمل ، پھکڑ دہلوی وغیرہ وغیرہ نے خوب خوب یہ چاہا کہ اس مقدس وجود کے لئے دنیا میں اور جماعت میں غلط فہمیاں پھیلا ئیں۔مگر کیا آپ نے اس کو بگا ڑلیا۔آپ خاندان مسیح موعود میں سے ہیں آپ کو چاہئے تھا کہ جو باغ آپ کے والد ماجد نے لگایا ہے اس کی پرداخت کرتے اور گلزار کرنے کی کوشش کرتے۔مگر آپ نے افسوس ایسا نہیں کیا۔اس سے جناب مسیح موعود کا مثیل نوح ہو نا بھی یقین ہو گیا۔میں اپنے خط کو طول دینا نہیں چاہتا میں صرف چند امور لکھ کر اسے تمام کرتا ہوں۔اول۔آپ جماعت احمدیہ میں تفرقہ نہ پھیلائیں اپنے چیلے چاپڑوں کو منع کریں کہ وہ بھی تفرقہ نہ پھیلائیں۔(۲) خواجہ کمال الدین صاحب کامیاب ہو گیا۔اور اب آپ کا حسدا سے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔اس کی مخالفت سے باز آؤ۔اس کی مخالفت مسیح موعود کی مخالفت ہے۔اس کی مخالفت اسلام کی مخالفت ہے۔(۳) تمنائے خلافت چھوڑ دیجئے۔ابھی آپ طفل مکتب ہیں یہ بار عظیم ہے اس کے اٹھانے کے آپ ہر گز اہل نہیں ہیں۔آپ سے ہزار درجہ افضل تو میں ہوں اگر آپ نے دعوی کیا ہے تو مجبورا میں بھی ایسا کروں گا۔(۴) آپ کو قسم ہے خدا پاک کی کہ آپ بذریعہ اخبارات اپنی پوزیشن صاف کریں اور جو جو الزامات میں نے لگائے ہیں ان کی تردید کریں۔اگر آپ نے قسم شرعی کھائی تو میں اپنا دعویٰ اٹھالوں گا۔اور آپ سے معافی کا خواستگار ہوں گا۔اگر ایسا آپ نے نہ کیا۔تو یاد رکھئے کہ آپ خدا کے یہاں جوابدہ ہوں گے"۔حضرت اولو العزم محمود فضل عمر کا جواب " مجھے آپ کے خط کو پڑھ کر جو صدمہ ہوا۔اسے تو خدا ہی جانتا ہے لیکن وہ صدمہ کوئی نیا نہ تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ میں اس قسم کے الزامات لگائے جانے کا عادی ہوں۔اور جب سے ہوش سنبھالا ہے۔غیروں کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ اپنے دوستوں ہی کے ہاتھوں سے وہ کچھ دیکھا اور ان کی