تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 487
تاریخ احمدیت جلد ۳ 479 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء زبانوں سے وہ کچھ سنا کہ دوستوں سے اس قدر صدمہ اٹھائے ہم نے دل سے دشمن کی عداوت کا گلا جاتا رہا میں ایک گنہگار انسان ہوں اور مجھے پاک و مطہر ہونے کا دعویٰ نہیں۔ہر روز مجھ سے غلطیاں ہوتی ہیں اور کون ہے جس سے غلطیاں سرزد نہ ہوتی ہوں لیکن باوجود اس کے جو گناہ سرزد نہ ہو۔اس کی طرف منسوب ہونے پر دل گھبراتا ضرور ہے جو حملے آنکرم نے کئے ہیں ان کا کوئی ثبوت بھی دیتے تو شاید ان کے جواب دینے کے قابل ہوتا۔لیکن وہ کہتے ہیں کہ تم نے یوں کیا یوں کیا۔اس کا جواب سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ میں نے یوں نہیں کیا۔اور آپ نے صرف بدظنی سے کام لیا ہے۔اور اعتراض کرنے میں جلدی کی ہے۔اگر یہ خط اکیلا آتا اور اس کے سوا اور میں کوئی آواز نہ سنتا۔تو میں بالکل خاموش رہتا۔لیکن آج پانچ سال کے قریب عرصہ ہونے کو آیا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات میں سنتا آرہا ہوں لیکن پہلے تو افواہا ان اعتراض کا علم ہو تا تھا اور اب کچھ مدت سے تحریر ابھی یہ الزامات مجھ پر قائم کئے جانے لگے ہیں۔اور صرف مجھی تک بس نہیں بلکہ ٹریکٹوں کے ذریعہ یہ خیال تمام جماعت احمدیہ میں پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔چنانچہ جن دوستوں تک اظہار الحق نامی ٹریکٹ جو لاہور سے کسی گمنام صاحب کی طرف سے شائع ہوا ہے۔پہنچا ہے اور اکثر پہنچا ہو گا۔کیونکہ وہ پنجاب وہندوستان میں بکثرت شائع کیا گیا ہے ان کو علم ہو گیا ہو گا۔کہ اب یہ معاملہ زبانوں سے گزر کر تحریر تک اور تحریر سے گزر کر اشاعت تک جا پہنچا ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ مجملا اس کے متعلق کچھ لکھا جائے۔میں حیران ہوں کہ اس معاملہ میں کچھ لکھوں تو کیا لکھوں۔آخر وہ کون سے دلائل ہیں جن کو تو ڑوں جب سب معاملہ کی بنا ء ہی بدظنی پر ہے تو میں بدظنی میں دلائل کیا دوں۔عقلی مسئلہ ہو تو اس کا جواب دلائل عقلیہ سے دیا جائے۔لیکن جب یہ معاملہ ہی رویت و سماعت کا ہے۔تو جب تک میری تحریر یا تقریر سے یہ الزامات مجھ پر ثابت نہ کئے جائیں اس وقت تک میں ان الزامات کا کیا جواب دے سکتا ہوں؟ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے میں جواب دینے سے مجبور ہوں اور موجودہ صورت میں اور کیا کہہ سکتا ہوں سوائے اس کے کہ یہ کہوں کہ خدا تعالیٰ شاہد ہے اور میں اس کو حاضر و ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی اس امر کی کوشش نہیں کی کہ میں خلیفہ ہو جاؤں۔نہ یہ کہ کوشش نہیں کی۔بلکہ کوشش کرنے کا خیال بھی میرے دل میں نہیں آیا۔اور نہ میں نے کبھی یہ امید ظاہر کی اور نہ میرے دل نے کبھی خواہش کی۔اور جن لوگوں نے میری نسبت یہ خیال پھیلایا ہے انہوں نے میرا خون