تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 485
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 477 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء تعالیٰ جس کو چاہے گا اس کے سامنے سب کی گردنیں جھکا دے گا۔میرے نزدیک کسی احمدی کو امیدوار خلافت کہنا ایک گالی ہے کیونکہ اس کو ایک قابل شرم نادانی سے ختم کرنا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اپنے فقرہ مذکورہ بالا کی نقل پڑھ کر آپ کو خود بھی ندامت ہوئی ہوگی کیونکہ آپ کے پاس سوائے ظن کے اور دلیل اور کوئی علم اس بات کے کہنے کے لئے نہیں ہے۔| 114– آپ نے امیدوار خلافت کا نہایت ذلیل ترین خطاب حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کو دیا۔مہربانم اگر براہ راست جناب میاں صاحب سے آپ نے خلافت کی خواہش نہیں معلوم کی۔یعنی ان کی کوئی تحریر ایسی نہیں دیکھی اور کوئی تقریر ایسی نہیں سنی کہ جس میں انہوں نے خلیفہ بننے کی خواہش ظاہر کی ہو۔تو ذرا خدا کا خوف کر کے بتائیں کہ ایک مسلمان کے لئے یہ کہاں جائز ہے کہ وہ ان کو امیدوار خلافت کے " یہ ایسے شخص کی شہادت ہے جو انصار اللہ کی تحریک میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء سے بھی گہری ہمدردیاں رکھتا تھا۔جیسا کہ پیش آنے والے واقعات نے ثابت کیا۔مگر اصل خط چونکہ براہ راست حضرت صاحبزادہ صاحب کے نام تھے۔اس لئے حضرت صاحبزادہ صاحب نے اصل خط اور اس کا مفصل جواب الفضل میں شائع فرما دیا۔جو حسب ذیل ہے۔کھلا خط بنام مرزا محمود احمد صاحب سکنہ قادیان ضلع گورداسپور امیدوار خلافت جناب من! السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ:- میں عرصہ سے آپ کی تحریرات کو دیکھتا آیا ہوں۔مجھے نہایت افسوس ہے کہ آپ کی تحریرات میں روز بروز دق عظیم ہوتا جاتا ہے۔بعد وفات حضرت مسیح النقلین علیہ الصلوۃ والسلام تمنائے خلافت آپ کو بہت بے چین کئے ہوئے ہے مگر جناب والا! معاف فرمائے۔آپ نے حصول خلافت کے لئے جو ذریعہ اختیار کیا ہے۔وہ ہر گز اچھا نہیں کہا جا سکتا بلکہ اس ذریعہ کے عمل میں لانے سے آپ جماعت میں تفرقہ عظیم پھیلا رہے ہیں۔مگر یہ نئی بات نہیں ہے بعد وفات حضرت رسول کریم جناب علی کو باوجود زہد و تقویٰ اکثر تمنائے خلافت پریشان رکھتی تھی۔آپ نے اپنے طرز عمل سے ثابت کر دیا ہے که واقعی جناب مسیح موعود بروز محمد علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔آپ کو خاندان رسالت میں ہونے کا دعویٰ ہے اور میں مانتا ہوں کہ بے شک آپ ہیں۔مگر اس کا یہ نتیجہ نہیں ہونا چاہئے۔کہ آپ تفرقہ ڈال کر اپنا کام نکالیں۔