تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 464 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 464

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 456 اخبار " الفضل “ اور ”پیغام صلح " کا اجراء فراخ دلی اور وسعت قلبی کا پتہ چلتا ہے۔مگر چونکہ ادارہ پیغام صلح کی پالیسی میں خاص طور پر آپ کی ذات پر تنقید شامل تھی۔اس لئے اس نے چند ہفتوں کے بعد ہی الفضل سے کھلم کھلا نوک جھونک شروع کر دی اور لکھا۔”ہم احمدی لوگ دوسروں کو تو الزام دیتے ہیں کہ وہ قرآن پر عمل نہیں کرتے۔لیکن اگر اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں اور غور کریں تو پائیں گے کہ ہم خود جو حق قرآن پر چلنے کا ہے ادا نہیں کرتے۔اور تنسون انفسکم کا رنگ ہماری تحریروں اور تقریروں میں پایا جاتا ہے۔ہمارے بعض اخبارات نے اس حکم کی تعمیل میں کو تاہی اختیار کی ہے۔وہ دار الامان میں امن سے رہتے ہیں ان تک وہ گالیاں پہنچیں یا نہ پہنچیں لیکن بیرو نجات کے لوگوں کو اس کی وجہ سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے بڑے ادب سے ہم اپنے احمدی بھائیوں کی خدمت میں التماس کرتے ہیں کہ اس حکم الہی کو مد نظر رکھتے ہوئے ان حرکات سے باز آجائیں ۶۴ et - حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا بیان ہے کہ اس مضمون پر حضرت خلیفہ اول سخت ناراض ہوئے اور فرمایا یہ " پیغام جنگ" ہے اور مجھے حکم دیا کہ اگر چہ ہم قیمت دے چکے ہیں۔پھر بھی ہمارے نام اگر ڈاک میں آوے تو واپس کر دیں۔اور ایک خط ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے نام لکھا کہ " آپ کا پیغام جنگ ملا۔مولوی محمد علی اور خواجہ کمال الدین کی بیعت کر لو۔ان الله و انا الیه راجعون"۔یہ بات جماعت میں انہی دنوں پھیل گئی۔اور پیغام صلح سے نفرت و حقارت کا اظہار ہونے لگا۔چنانچہ اخبار "الحق" (دہلی) نے لکھا۔" احقر ایڈیٹر الحق کو گو پیغام صلح کی روش ابتداء سے پسند نہ تھی۔مگر تا وقتیکہ اپنے امام کا ارشاد اس کے متعلق معلوم نہ کر لیا۔اس پر لکھنا مناسب نہ جانا۔اب جبکہ وثوق کے ساتھ مجھے یہ علم ہو گیا کہ حضرت امامنا و مرشد نا امیر المومنین خلیفتہ المسیح ایده الله بنصرہ نے "پیغام صلح" سے اظہار ناراضگی فرمایا بلکہ اس کے کارکنان کو خط بھی لکھ دیا کہ آئندہ پیغام صلح ہمارے نام نہ بھیجیں ہم اس کو دیکھنا پسند نہیں کرتے۔اور حضور کے اس ارشاد کو سن کر دیگر مخلص احباب نے بھی ”پیغام صلح" کالینا بند کر دیا۔اور پرچے واپس کر دئے نیز حضور پر نور نے اس کا نام بجائے "پیغام صلح" کے "پیام جنگ" رکھا"۔حضرت خلیفہ اول نے ۲۷/ اگست ۱۹۱۳ء کو شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے نام ایک خط لکھا کہ ”یہاں خطرناک مخالفت کا جلوہ ہے۔مرزا یعقوب بیگ صاحب ، ڈاکٹر شیخ صاحب ، شیخ رحمت اللہ صاحب نے تو میرے سامنے اور سید محمد حسین صاحب نے تحریراً اور مولوی محمد علی صاحب نے سنتا ہوں گو ابھی میرے پاس ثبوت کے لئے کوئی ذریعہ نہیں کی