تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 465
تاریخ احمدیت جلد ۳ 457 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء ہے فاناللہ وانا الیہ راجعون اور کیا لکھوں۔والسلام نورالدین ۲۳ / رمضان شریف ۵۲۵ " خطرناک قلات مین در مرز ایتی کده ویر پر سامنے۔اور سید محوض خان نے عززاً اور ہیلے تھے پھر مجود سے کالے نے سنتے ہونے کو راہی میں اڑی ہوں کوئی دور یونین کی بہت نانا ہر وانا الیہ راجح اس کے علاوہ آپ نے اپنے قلبی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔محمود مسیح موعود کا بیٹا ہے۔اس پر جو زبان تیز کرے گاوہ یا د ر کھے کہ محمد حسین نے ایسا کیا اور اس کی اولاد گندی ہو گئی"۔حضرت چوہدری فتح محمد صاحب کا حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ۱۹۱۲ء میں عربی میں ایم۔اے کی ڈگری حاصل کر کے اپنے سفر انگلستان اور یورپ میں سب عید وقف زندگی کے مطابق قادیان آچکے تھے کہ سے پہلے احمدی مسلم مشن کا قیام حضرت خلیفہ اول نے تحریک فرمائی کہ ہمیں لنڈن مشن کے لئے ایک مبلغ کی ضرورت ہے جس پر حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال اور حضرت مولوی محمد الدین صاحب نے اپنا نام پیش کیا۔حضرت خلیفہ اول نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ آپ تو کہتے تھے کوئی نوجوان جانے کو تیار نہیں۔میرے پاس تو ایک کی بجائے دو نوجوانوں کی درخواستیں آگئی ہیں۔مولوی محمد علی صاحب چونکہ دوسرے نوجوانوں کو بھجوانے کی بجائے خواجہ کمال الدین صاحب کی خواہش کے مطابق خود ولایت جانا چاہتے تھے۔اس لئے انہوں نے حضرت خلیفہ اول کو یہ اطلاع دی کہ یہ نوجوان دس دس ہزار روپیہ پیشگی کا مطالبہ کرتے ہیں چوہدری صاحب نے عرض کی یہ تجویز خود مولوی صاحب کی ہے ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔چوہدری صاحب نے مولوی الدین صاحب کو یہ بات پہنچائی تو انہوں نے کہا ان حالات میں میں تو نہیں جا سکتا لیکن چوہدری