تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 450
تاریخ احمدیت جلد ۳ 442 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء ظاہر کی ہے۔وہ مرزا صاحب کے مریدی کے حلقے سے باہر ہونے کی حیثیت میں کی ہے میں نے قادیان کو اس اصول پر نہیں دیکھا کہ مرزا صاحب کے دعوئی مسیح موعود یا مہدی مسعود کے صحیح یا غلط ہونے کے متعلق قادیان کو دیکھ کر کوئی نتیجہ اپنے دل میں اخذ کروں میں صرف اپنے مذکورہ بالا خیال کی کشش کے باعث وہاں گیا اور احمدی جماعت کو اس کے اہل پایا اور اسے خالص اسلامی جماعت کے جلوے میں دیکھا۔خواہ اس جماعت کا بانی اپنے ذاتی دعوئی میں حق بجانب تھا یا نہیں مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔مگر عالمگیر اسلامی اصول کی بنا پر اس نے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے۔اور اسلام کی خدمت کو عملی طور پر کرنے والے زبر دست مشن کی بنیاد دنیا میں ڈال گیا ہے۔اس اصول پر مرزا صاحب کی بہت بڑی بھاری عزت میرے دل میں پیدا ہو گئی ہے۔اور انہیں میں اسلام کا سچا خادم تسلیم کرتا ہوں۔گوان کے ذاتی دعوئی مسیح و مہدی سے مجھے اتفاق نہیں جو یقیناً افترا پر مبنی نہیں تھا وہ اسلام کو ترقی دینے کی پالیسی یا کسی غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔جو اسلام کے کمال ضعف کو دیکھ کر سخت جوش کی وجہ سے مجبور اسرزد ہو گیا مگر جو کچھ ہوا نیک نیتی سے ہوا۔کیونکہ ان کے کام کا نتیجہ یہی شہادت دیتا ہے " - D حضرت خلیفہ اول کا ایک مکتوب حضرت خلیفہ اول نے ایک خط تحریر فرمایا۔خط کے ایک حصہ میں آپ نے مسئلہ خلافت پر روشنی ڈالی کہ " خلیفہ بنانا میرے نزدیک صرف اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے پھر ابو بکر کو مولانا کیا ضرورت پڑی کہ آیت استخلاف سے استدلال کرتا۔ان ہی دنوں آپ نے اپنی ایک جیبی بیاض میں لکھا۔الذین امنوا منكم و عملوا الصلحت کی تقسیم کہ دو سلسلہ ہیں ایک جسمانی ، ایک روحانی اگر اس میں بادشاہ پریذیڈنٹ صدر نہ ہو تو تباہی آجاتی ہے ایسے ہی روحانی بادشاہ نہ ہو تو تباہی ہی تباہی لابد ہے۔"کلام محمود " کی اشاعت حضرت صاجزاد مرزا محمود احمد صاحب کا عارفانہ شعری کلام پہلی مرتبہ قاضی محمد ظهور الدین صاحب اکمل نے مئی ۱۹۱۳ ء میں شائع کیا اور ابتداء میں اس کا دیباچہ بھی لکھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی اولین نظم ۱۹۰۳ء کی ہے جب کہ آپ شاد تخلص کرتے تھے۔شعر و سخن کے باعث میں آپ کا مسلک کیا رہا ہے اس پر آپ خود ہی روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔” میں کسی نظم کو شاعری کے شوق میں نہیں کہتا ہوں۔بلکہ جب تک ایک خاص جوش پیدا نہ ہو۔نظم کہنا مکروہ سمجھتا ہوں۔اس لئے درد دل سے نکلا ہوا کلام سمجھنا چاہئے۔بعض نظم نا مکمل صورت میں پیش کرنے سے میرا مقصد یہ ہے تاکہ لوگ دیکھیں کہ شاعری کو بطور پیشہ نہیں اختیار کیا گیا بلکہ جب کبھی قلب پر کیفیت ظاہر ہوتی ہے تو اس کا اظہار کر دیا جاتا ہے۔اور پھر یہ خیال نہیں ہو تا کہ اس کو مکمل بھی کیا جارے۔(۳) چونکہ میں تکلف سے شعر نہیں کہتا۔ٹوٹے ہوئے