تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 449 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 449

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 441 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء دیکھی کہیں نہیں دیکھی۔صبح کی نماز منہ اندھیرے چھوٹی مسجد میں پڑھنے کے بعد جو میں نے گشت کی تو تمام احمدیوں کو میں نے بلا تمیز بوڑھے و بچے اور نوجوان کے لیمپ کے آگے قرآن مجید پڑھتے دیکھا۔دونوں احمدی مسجدوں میں دو بڑے گروہوں اور سکول کے بورڈنگ میں سینکڑوں لڑکوں کی قرآن خوانی کا موثر نظارہ مجھے عمر بھر یاد رہے گا۔حتی کہ احمدی جماعت کے تاجروں کا صبح سویرے اپنی اپنی وکانوں اور احمدی مسافر مقیم مسافر خانے کی قرآن خوانی بھی ایک نہایت پاکیزہ سین (منظر) پیدا کر رہی تھی۔گویا صبح کو مجھے یہ معلوم ہو تا تھا کہ قدسیوں کے گروہ در گروہ آسمان سے اتر کر قرآن مجید کی تلاوت کرے بنی نو انسان پر قرآن مجید کی عظمت کا سکہ بٹھانے آئے ہیں۔غرض احمدی قادیان میں مجھے قرآن ہی قرآن نظر آیا "۔پیر پرستی کا نرالا ڈھنگ جو ہندوستان میں مسلمانوں کی شامت اعمال سے ہندوستان کے بڑے بڑے اولیاؤں کے مزاروں کے ذریعے ان کے جانشینوں اور خلیفوں نے ڈال کر اپنے طرز عمل سے اسلامی توحید کی مٹی پلید کر رکھی ہے میں نے اپنے دو دن کے قیام میں اس کا کوئی شائبہ عملی صورت میں نہیں دیکھا۔مرزا صاحب کی قبر کو بھی جا کر دیکھا جس پر کوئی عالی شان یا معمولی روضہ نہیں بنایا گیا۔اپنے گردو نواح کی قبروں سے اسے کسی قسم کی نمایاں خصوصیت نہیں تھی۔اور نہ کسی مجاور یا جاروب کش کو وہاں پایا نہ کسی کو زیارت کرتے یا دعامانگتے دیکھا۔میں نے نہایت غور سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر قبر کے سرہانے کو دیکھا کہ کہیں پرستش کے مستحق قبروں کی طرح اس قبر پر بھی چراغ جلایا جا تا ہو۔مگر میں نے اس کا کوئی نشان نہ پایا۔علاوہ اس کے میرے روبرو تو نہ مولوی نور الدین صاحب سے کسی نے تعویذ لینے کی استدعا کی اور نہ خود بخود کسی سائل یا مریض کو انہوں نے لکھ دیا۔اور نہ کسی پر جھاڑ پھونک کی۔پس ہر ایک معاملے میں علاوہ بیماروں کو علاج بتانے کے خداوند تعالیٰ سے دعا ئیں مانگنے کا زور تھا۔جس کے لئے مولوی نور الدین صاحب نے اپنے آپ کو مخصوص نہیں بنا رکھا۔۔۔۔جو کچھ میں نے احمدی قادیان میں جا کر دیکھا۔وہ خالص اور بے ریا توحید پرستی تھی۔اور جس طرف نظر اٹھتی تھی قرآن ہی قرآن نظر آتا تھا۔غرض قادیان کی احمد می جماعت کو عملی صورت میں اپنے اس دعوئی میں میں نے بڑی حد تک سچا ہی سچا پایا۔کہ وہ دنیا میں اسلام کو پر امن صلح کے طریقوں سے تبلیغ و اشاعت کے ذریعے ترقی دینے کے اہل ہیں اور وہ ایسی جماعت ہے۔جو دنیا میں عملاً قرآن مجید کے خالصتہ للہ پیرو اور اسلام کی فدائی ہے اور اگر تمام دنیا اور خصوصاً ہندوستان کے مسلمان یورپ میں اشاعت اسلام کے ان کے ارادوں کی عملا مدد کریں تو یقینا یورپ آفتاب اسلام کی نورانی شعاعوں سے منور ہو جائے گا۔۔۔۔۔آخر میں میں ناظرین کی خدمت میں یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے جو کچھ اس وقت رائے