تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 451 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 451

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 443 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء دل کی صدا ہے پڑھو اور غور کرو۔خدا کرے یہ درد بھرے کلمات کسی سعید روح کے لئے مفید و با برکت ثابت ہوں"۔مئی ۱۹۱۳ء کو حضرت خلیفہ اول خواجہ کمال الدین صاحب کے نام ایک اہم خط نے خواجہ کمال الدین صاحب کے نام ایک خط لکھا جس کے ضروری حصے یہ ہیں لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لنفسک علیک حق ہمیشہ یادر ہے جان سے اتنا کام لوجس میں بیمار (ی) وہلاکت سے بچو۔حفظ دین۔حفظ جان۔حفظ عقل۔حفظ عزت۔حفظ مال۔حفظ نسل اسلام کے ستہ ضرور یہ ہیں"۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے مسیحت کی بناء کسی کتاب پر نہیں۔پولس (پال) نے توریت کو طعنہ کیا ہے۔اور جس انجیل کا ذکر وہ خطوں میں کرتا ہے وہ کسی کے پاس نہیں صرف ایک بشارت پر جو اس نے کفارہ میں کی ہے "۔ایک میری پرانی یادداشت ہے اس کے صفحات کی نقل مرسل خدمت ہے۔ایک مضمون ایک انجمن میں بصدارت نور الدین پیش ہوا۔اس پر رائے زنی ہو۔آہ۔آہ۔آہ۔اس پر کیا لکھوں لا حول ولا قوة الا بالله الله ہی توفیق دے وما توفيقي إلا بالله۔آپ کو معلوم ہے ہمہ یاراں بہشت ایک مثل ہے مکرم میاں محمود احمد سے تو ان کو مناسبت نہیں ہمیشہ ان کی تحقیر ان کے مد نظر ہے۔نواب صاحب میر ناصر نواب بھی میاں محمود سے زیادہ معیوب (اصل لفظ معتوب ہو گا۔ناقل ) ہیں۔گویا انجمن نام ہے شیخ صاحب رحمت اللہ۔عزیزان محمد حسین شاہ صاحب ڈاکٹر۔مرزا یعقوب بیگ صاحب ڈاکٹر۔مکرم مولوی محمد علی صاحب مولوی صدر الدین صاحب ہیڈ ماسٹر۔یہ پانچ کورم پورا ہوا جو چاہیں کریں۔پہلے محمود کو سخت ست کہا وہ رک گیا مگر مدت کے بعد اس کو سمجھایا کہ اب غالبا سرد ہو گئے ہوں گے آپ جایا کریں۔وہ گئے کسی معاملہ پر ایک نے کہا۔آپ صدرالدین کے معاملہ میں ہرگز نہ بولا کرو اس پر محمود نے بھی رنج آلود خط لکھا۔جس پر میں نے ملامت اور نصیحت لکھ کر ڈاکٹروں کو دے دیا۔پھر مولوی محمد علی صاحب کو تحریر الکھا۔مگر کچھ جواب نہ دیا۔انالله وانا اليه راجعون - میرے مرنے پر ان کو ضرور دقت پیش آئے گی مگر اصلاح نہ ہوئی۔افسوس! مجھے محمد اقبال ڈاکٹر نے میرے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا ڈریپر مرگیا۔اس کا فلسفہ بھی مرگیا۔یورپ ہر روز نئے فلسفہ کا دلدادہ ہے میرے دل میں آیا۔یہ کیا بات ہے ظہر کا وضو کرنے لگا القا ہوا۔