تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 429 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 429

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 421 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب اگر چہ جسمانی طور سے تو اس سفر میں بہت تکلیف ہوئی ہے اور میری صحت بہت خراب ہو گئی ہے لیکن روحانی طور سے بہت اصلاح معلوم ہوتی ہے سرزمین مکہ کی ہر ایک اینٹ اور ہر ایک مکان اور ہر ایک آدمی اور ہر ایک چیز اللہ تعالی کی ہستی کا ایک ثبوت ہے اس وادی غیر ذی زرع میں کیا کچھ سامان لا کر اکٹھا کر دیا ہے۔کعبہ کو بھی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ہر وقت سینکڑوں آدمی گھوم رہے ہیں اور عملی طور پر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے احکام پر قربان کرنے کا اشارہ کر رہے ہیں پھر اس سرزمین سے کیسا پاک انسان خاتم الرسل پیدا ہوا۔اس نے دین حق کے لئے کیا کیا کوششیں کیں کس طرح اپنے آپ کو راہ الہی میں قربان کر دیا۔ہزاروں اثرات ہیں جو دل پر ہوتے ہیں اور نیکی اور تقویٰ کی تحریک کرتے اور محمد ہوتے ہیں دعاؤں کی تحریک بھی بہت ہوتی ہے۔افسوس کہ مدینہ منورہ نہیں جا سکتا۔لیکن شاید اللہ تعالٰی پھر موقعہ دے دے "۔" نیز لکھتے ہیں۔” دعاؤں سے رغبت اور دعاؤں کا القا اور رحمت الہی کے آثار جو میں نے اس سفر میں خصوصاًانکہ مکرمہ اور ایام حج میں دیکھے ہیں وہ میرے لئے بالکل ایک نیا تجربہ ہے اور میرے دل میں ایک جوش پیدا ہوا ہے کہ اگر انسان کو توفیق ہو تو وہ بار بار حج کرے۔کیونکہ بہت سی برکات کا موجب ہے"۔حج کے روز آپ کی طبیعت جو مسلسل سفر اور کام کی وجہ سے نڈھال ہو گئی تھی خدا کے فضل سے صاف ہو گئی اور حج کا فریضہ نہایت عمدگی اور خیریت کے ساتھ ادا ہوا۔میدان عرفات میں قریباً چار گھنٹہ سے زیادہ آپ کو دعا کا موقعہ ملا۔اور رحمت الہی کے آثار ایسے نظر آتے تھے کہ معلوم ہو تا تھا تمام دعائیں قبول ہو رہی ہیں۔اور خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی دعا ئیں القا ہوتی تھیں جو کبھی وہم میں بھی نہ آئی تھیں۔آپ نے ان مبارک لمحات میں قادیان کے دوستوں کے لئے ہر ایک کا نام لے لے کر دعائیں کیں۔اور ہر ایک مقام پر کیں۔1 مکہ میں آپ کو تبلیغ کے بہت سے نئے تجربات ہوئے۔آپ شریف مکہ سے بھی ملے آپ کا ارادہ حج کے بعد کچھ عرصہ اور قیام کرنے کا تھا۔مگر ایک تو آپ بیمار ہو گئے۔دوسرے حج ختم ہوتے ہی مکہ میں ہیضہ پھوٹ پڑا۔جو اتنا شدید تھا کہ لوگ گلیوں میں مردوں کو پھینک دیتے تھے اور دفن کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملتا تھا یہ دیکھ کر حضرت نانا جان گھبرا گئے اور انہوں نے کہا ہمیں جلدی واپس چلنا چاہئے۔چنانچہ آپ نے واپسی کی تیاری شروع کر دی۔آخری ملاقات کے لئے جب اس غیر احمدی ماموں کی طرف گئے تو معلوم ہوا کہ منی سے واپسی پر وہ ہیضہ کے حملہ کی تاب نہ لا کر تھوڑی دیر میں ہی فوت ہو گئے ہیں۔