تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 428 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 428

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 420 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب کر لیا۔مقصد یہ تھا کہ مکہ میں باقاعدہ حکومت کوئی نہیں اگر مباحثہ ہوا تو لوگ جوش میں آکر انہیں قتل کر دیں گے۔اس شخص نے یا اس کے ساتھیوں نے گورنمنٹ حجاز کو بھی توجہ دلائی کہ آپ کے خلاف فوری کارروائی کرے۔اور اس فتنہ " کو بڑھنے سے رو کے عبدالحی عرب صاحب کے پاس جب مولوی ابراہیم صاحب کی دعوت مباحثہ پہنچی تو عرب صاحب نے پیغام لانے والے کو جواب دیا کہ ہم یہاں مباحثات کے لئے نہیں آئے حج کی غرض سے آئے ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو اس اشتعال انگیزی کا ابھی تک کوئی علم نہ تھا۔ایک دن آپ ایک عرب عالم مولانا عبد الستار کہتی کو جو شریف مکہ کے بچوں کے استاد تھے۔تبلیغ کے لئے گئے وہ عقیدہ اہلحدیث تھے مگر چونکہ ان دنوں اہلحدیثوں کو سخت نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔اس لئے وہ اپنے تئیں خیلی ظاہر کرتے تھے۔آپ کافی دیر تک ان کو تبلیغ کرتے رہے۔آخر وہ کہنے لگے آپ نے مجھے تو تبلیغ کرلی ہے اور آپ کی باتیں بھی معقول ہیں لیکن میرے سوا کسی اور کو تبلیغ نہ کریں ورنہ آپ کی جان کی خیر نہیں اور خطرہ ہے کہ کوئی شخص آپ پر حملہ نہ کر بیٹھے یا حکومت ہی آپ کو قید نہ کر دے پھر اس نے آپ کے غیر احمدی ماموں کا نام لیا کہ اس نے آپ کے خلاف اشتہار دیا یا دلوایا ہے اور لکھا کہ اگر انہیں اپنے دعاوی کی صداقت پر یقین ہے تو مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی سے مباحثہ کرلیں۔مولانا عبد الستار صاحب فرمانے لگے۔میں نے مولوی سیالکوٹی صاحب سے کہا ہے کہ کہیں جوش میں آکر مباحثہ نہ کر بیٹھنا کیونکہ یہاں احمدیوں سے زیادہ اہلحدیثوں کی مخالفت ہے احمدیوں کے خلاف کسی کو اشتعال آیا یا نہ آیا تمہارے خلاف ضرور لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ کس طرف سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں انہوں نے ایک عالم کا نام لیا کہ اسے تو بالکل تبلیغ نہ کرنا۔آپ نے ان کو بتایا کہ میں تو اسے ایک گھنٹہ تبلیغ کر کے آرہا ہوں۔وہ حیران ہو کر بولے پھر کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا۔تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ غصہ اور جوش کی حالت میں کہہ دیتے تھے۔کہ نہ ہوئی تلوار ہمارے قبضہ میں ورنہ تمہار ا سر قلم کر دیتا۔غرض مکہ میں مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بشارتوں اور وعدوں کے مطابق آپ کے غلام کی آواز پوری قوت و شوکت سے آخر دم تک پہنچاتے رہے۔مکہ کی مقدس سرزمین نے آپ کی روحانیت پر جو گہرا اثر ڈالا۔اس کا ذکر اپنے ایک خط میں جو مکہ سے حضرت خلیفتہ المسیح ہی کے نام لکھایوں فرماتے ہیں :