تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 430 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 430

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 422 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب جب آپ جدہ پہنچے تو جدہ کے انگریزی قونصل خانہ میں بھی آپ کے نھیال کے ایک رشتہ دار تھے۔آپ ٹکٹ کے لئے ان کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آپ کو کمپنی کا ملازم سمجھ کر بڑی لجاجت سے کہا کہ ہمارا قافلہ تمیں نہیں عورتوں اور مردوں پر مشتمل ہے اور اس وقت سخت مصیبت کا سامنا ہے مگر ہمیں سب سے زیادہ فکر عورتوں کا ہے ہیضہ کی وجہ سے عورتیں تو پاگل ہو رہی ہیں۔اگر آپ دس بارہ ٹکٹ خرید دیں تو ہم عورتوں کو یہاں سے رخصت کر دیں۔آپ نے فرمایا عورتیں اکیلی کس طرح جائیں گی ؟ اس پر اس نے کہا کہ آپ دو چار اور ٹکٹ لے دیں۔تو کچھ مرد بھی ان کے ساتھ جاسکیں گے اور ساتھ ہی روپوں کی ایک تحصیلی آپ کو پکڑوادی چنانچہ آپ نے اپنے رشتہ دار سے کہا۔کہ ان لوگوں کی حالت بہت قابل رحم ہے آپ ان کو بھی ٹکٹ لادیں۔وہ اس وقت کسی بات پر چڑے ہوئے تھے کہنے لگے کیا میں کوئی ایجنٹ ہوں کہ ٹکٹ لاتا پھروں؟ مگر آپ نے دوبارہ کہا یہ رحم کا معاملہ ہے آپ ضرور کوشش کریں اور اگر ان کے لئے نہیں تو کم از کم میری خاطر ہی ٹکٹ لادیں وہ واپس گئے اور تھوڑی ہی دیر میں غالبا سترہ ٹکٹ لے کر واپس آئے۔آپ نے وہ ٹکٹ اور باقی رو پے کھڑکی میں سے اس شخص کو پکڑوا دیے شاید دوسرے ہی دن جب آپ اپنے نانا جان کے ساتھ (منصورہ نامی) جہاز پر سوار ہونے کے لئے گئے جہاز چلنے ہی والا تھا۔وہ نوجوان جہاز کے دروازہ پر ہی آپ کو ملا۔اور کہنے لگا۔آپ نے اتنی دیر لگادی۔جہاز تو چلنے والا ہے۔چنانچہ انہوں نے خود ہی مزدوروں پر زور دے کر جلد جلد آپ کا اسباب جہاز میں رکھوایا۔اور پھر بڑی ممنونیت کا اظہار کیا کہ آپ نے بڑا احسان کیا جو ہمیں ٹکٹ لے کر دیئے ورنہ ہمارا اس جہاز پر سوار ہونا بالکل ناممکن تھا۔آپ نے اس کا نام پوچھا تو معلوم ہوا یہ وہی خالد ہے جو مکہ میں بحث مباحثہ کر کے آپ کو مار دینے کی سازش میں شریک تھا !! یہ ۲۵/ دسمبر کا واقعہ ہے۔آپ نے جدہ سے روانہ ہوتے ہوئے قادیان تار دے دیا تھا کہ ” میں جہاز پر جدہ سے سوار ہوتا ہوں مگر جلسہ پر نہیں پہنچ سکوں گا۔ہاں یہ پیغام دیتا ہوں کہ کشتی ڈوبنے کے وقت جو حالت ہوتی ہے وہ اس وقت مسلمانوں کی ہے۔سب دعاؤں میں لگ جائیں۔میں نے تمام قادیان والوں اور افراد سلسلہ کے لئے بہت بہت دعائیں کی ہیں"۔۶ / جنوری ۱۹۱۳ء کو منصورہ جہاز جدہ سے بمبئی کے کنارے آلگا۔یہاں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی آپ کی پیشوائی کے لئے پہلے سے موجود تھے۔۱۰ / جنوری ۱۹۱۳ء کو بمبئی سے ریل پر سوار ہوئے اور ۱۲ / جنوری ۱۹۱۳ء کو لاہور پہنچے احباب لاہور نے آپ کا بڑے اخلاص سے استقبال کیا۔کہتے ہیں چھ سو کے قریب پلیٹ فارم کے ٹکٹ